حدیث

مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41]، قَالَ: «حَسْبُكَ الآنَ» فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ»، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا میں آپ کو سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ چنانچہ میں نے سورہ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا: (کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواه لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بنا کر لائیں گے) [النساء: 41]، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اب بس کرو‘‘۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں قرآن میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو کیسے پڑھ کر سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں“۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی کچھ آیتیں تلاوت کی، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر پہنچے: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}۔ یعنی آپ کا اور آپ کی امت کا کیا حال ہوگا جب ہم آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر لائیں گے کہ آپ نے ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو اس موقف کی ہیبت اور اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

فوائد

  • نووی کہتے ہيں: تلاوت کو سننا، اس کی طرف کان لگانا، اس وقت رونا اور اس میں غور وفکر کرنا مستحب ہے۔ کسی دوسرے سے تلاوت کرنے کی درخواست کرنا تاکہ اسے سنے، یہ بھی مستحب ہے، اور یہ خود تلاوت کرنے کے مقابلے میں سمجھنے اور غور وفکر کرنے میں زیادہ مؤثر ہے۔
  • قرآن کی تلاوت کی طرح اسے سننے میں بھی ثواب ہے۔
  • عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت، رسول اللہ ﷺ نے ان سے تلاوت سننے کی خواہش ظاہر کی، یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قرآن سیکھنے، اسے حفظ کرنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی حرص پر دلالت کرتا ہے۔
  • اللہ عزوجل کی آیات سنتے وقت اس کے خوف سے رونے کی فضیلت، نیز (تلاوت کے وقت) وقار وسکینت کو لازم پکڑنے، اچھی طرح خاموشی اختیار کرنے اور چیخ و پکار نہ کرنے کی فضیلت۔
تشریح: العربية

طلب النبي صلى الله عليه وسلم من عبدالله بن مسعود رضي الله عنه أن يقرأ عليه شيئًا من القرآن، فقال: يا رسول الله، كيف أقرؤه عليك وعليك أنزل؟! فقال صلى الله عليه وسلم: إني أحب أن أسمعه من غيري، فقرأ عليه من سورة النساء، فلما بلغ قوله تعالى: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}. أي ماذا يكون حالك وحال أمتك إذا أتينا بك شهيدًا على أمتك أنك بلغتهم رسالة ربك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: توقف الآن عن القراءة، قال ابن مسعود رضي الله عنه: فالتفتُّ إليه فإذا عيناه تجري دموعهما رهبة من الموقف، ورحمة بأمته.

  • قال النووي: استحباب استماع القراءة والإصغاء لها والبكاء عندها وتدبرها، واستحباب طلب القراءة من غيره ليستمع له، وهو أبلغ في التفهم والتدبر من قراءته بنفسه.
  • سماع القرآن فيه ثواب كما في تلاوته.
  • فضيلة عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، حيث أحب الرسول صلى الله عليه وسلم أن يسمعه من فِيه، وهذا يدل على حرص ابن مسعود رضي الله عنه على تطلُّب القرآن وحفظه وإتقانه.
  • فضيلة البكاء خشية من الله عز وجل عند سماع آياته، مع التزام السكون، وحسن الصمت، وعدم الصراخ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید