حدیث

اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحامام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه قال: أراد بنو سلمة أن ينتقلوا للسكن قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم: «إنه قد بلغني أنكم تُريدون أن تنتقلوا قُرب المسجد؟» فقالوا: نعم، يا رسول الله قد أردنا ذلك، فقال: «بَنِي سَلِمَة، دِيارَكُم، تُكتب آثارُكُم، ديارَكُم تُكتب آثاركُم». وفي رواية: «إن بكلِّ خَطْوَة درجة».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ) نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ہمارا ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تہمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”تمہارے ہر قدم پر ایک درجہ ہے“۔

تشریح

اس حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ بنو سلمہ نے مسجد سے دور اپنی جگہ سے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا تاکہ مدینہ خالی نہ ہو جاۓ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے۔ اور آپ ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ مدینے کو زیادہ سے زیادہ آباد کیا جاۓ تاکہ اس کی وسعت کے باعث منافقین اور مشرکین پر رعب قائم ہو۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ! ہمارا ایسا ہی ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ اور ان کو بتایا کہ تمہارے ہر قدم پر ایک نیکی یا درجہ ہے۔ ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے سب سے زیادہ اجر کا حقدار وہ ہے جس کا گھر (مسجد سے) دور ہو۔ پوچھا گیا: وہ کیوں اے ابو ہُریرہ؟ تو فرمایا (مسجد تک چلنے والے) قدموں کی کثرت کے باعث۔ (مؤطا امام مالک) پس جو مسجد سے جتنا دور ہوگا یہ اس کے لیے درجات میں بلندی اور گناہوں کے کفارے کا باعث ہو گا۔ یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوگی جب کوئی شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرے، پھر پیدل جاۓ سوار نہ ہو۔ پھر چاہے قدم تھوڑے ہوں یا زیادہ اس کے لیے ہر قدم پر دو چیزیں لکھی جائیں گی: اس کا ایک درجہ بڑھے گا اور ایک گناہ معاف ہوگا۔ نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز کے لیے جائے تو جب دایاں پاؤں اٹھاۓ گا تواللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا۔ اور جب بایاں پاؤں اٹھائے گا تو اللہ اس کا ایک گناہ معاف کر دے گا۔ پس جو قریب ہوسکے ہو جاۓ اور جو دور ہونا چاہے دور ہو جاۓ“۔ (ابو داود) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات میرا رب میرے پاس خوبصورت شکل میں آیا - راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے اس سے آپ ﷺ کی مراد نیند میں ہے- اور مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ علم ہے کہ ملأ اعلی (بلند فرشتے) کس چیز میں تکرار کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا ہاں، وہ کفارات اور درجات میں تکرار کر رہے ہیں! پوچھا یہ کفارات اور درجات کیا ہیں؟ کہا: کفارات اور درجات یہ ہیں کہ نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنا اور باجماعت نماز کے لیے پیدل چلنا اور ناپسندیدگی کے باوجود مکمل طور سے وضو کرنا۔ (مسند احمد) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ درجات کا حصول چند باتوں پر منحصر ہے: 1۔ طہارت کے ساتھ مسجد جانا۔ 2۔ ثواب کی نیت۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (متفق علیہ)۔ 3۔ گھر سے مسجد جانے ہی کے ارادے سے نکلنا۔ 4۔ سواری کے بجاۓ پیدل جانا سواۓ ایسے شخص کے جسے کوئی عذر لاحق ہو۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث: أن بني سلمة أرادوا أن ينتقلوا من ديارهم -البعيدة من المسجد- إلى أماكن تقرب من المسجد، فكرِه النبي صلى الله عليه وسلم أن تُعرَّى المدينة، كما في رواية البخاري، ورغبته -عليه الصلاة والسلام- أن تُعمَّر ليعظم منظر المسلمين في أعين المنافقين والمشركين عند توسعها. ثم سألهم، قال: (إنه قد بلغني أنكم تريدون أن تنقلوا قرب المسجد) قالوا: نعم يا رسول الله قد أردنا ذلك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (دياركم تكتب آثاركم)، قالها مرتين، وبين لهم أن لهم بكل خطوة حسنة أو درجة. وعن أبي هريرة رضي الله عنه موقوفا عليه: "إن أعظمكم أجرًا أبعدكم دارًا، قيل: لِمَ يا أبا هريرة ؟ قال: "من أجل كثرة الخطا" رواه مالك في "الموطأ". فكلما بَعُد المنزل عن المسجد، كان في ذلك زيادة فضل في الدرجات والحط من السيئات. وإنما يتحقق هذا الفضل: إذا توضأ في بيته وأسبغ الوضوء، ومشى ولم يركب، سواء كان ذلك قليلاً، يعني سواء كانت الخطوات قليلة، أم كثيرة، فإنه يكتب له بكل خطوة شيئان: يرفع بها درجة، ويحط عنه بها خطيئة. فعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مرفوعاً: "إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء ثم خرج إلى الصلاة، لم يرفع قدمه اليمنى إلا كتب الله عز وجل له حسنة، ولم يضع قدمه اليسرى إلا حط الله عز وجل عنه سيئة، فليقرب أحدكم أو ليبعد) رواه أبو داود. وعن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أتاني ربي عز وجل الليلة في أحسن صورة -أحسبه يعني في النوم- فقال: يا محمد، هل تدري فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قال: قلت: نعم، يختصمون في الكفارات والدرجات، قال: وما الكفارات والدرجات؟ قال: المكث في المساجد بعد الصلوات، والمشي على الأقدام إلى الجماعات، وإبلاغ الوضوء في المكاره) رواه أحمد. فدل ذلك على أن نَيل الدرجات إنما يتحقق بأمور: 1ـ الذهاب إلى المسجد على طهارة. 2ـ احتساب الأجر؛ لحديث: (إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى) متفق عليه. 3ـ أن يخرج من بيته لا يخرج إلا لقصد المسجد. 4ـ المشي على الأقدام وعدم الركوب، إلا من عذر.

  • أن الأجر على قدر ما يبذله المكلف من جهد يحتاج إليه العمل دون أن يتكلف زيادة هذا الجهد أو تخفيفه.
  • الحث على صلاة الجماعة في المسجد ولو كان يسكن بعيداً عنه.
  • فضيلة الذهاب إلى المسجد والرجوع منه ماشياً.
  • في الحديث : إشعار؛ بأن هذا الجزاء للماشي لا للراكب إلا أن يكون معذوراً.
  • التثبت في النقل، فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- لم يخبرهم بالأمر إلا بعد أن تأكد منهم.
  • حسن طريقة النبي -صلى الله عليه وسلم- في طرح سؤاله لبني سلمة.
  • بيان أن الجَنَّة درجات ومنازل.
  • رغبة النبي -صلى الله عليه وسلم- في المحافظة على حدود المدينة أن تعرى من أهلها.
  • تقديم المصلحة العامة على المصلحة الخاصة، فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- رغَّبَهم بالبعد عن المسجد؛ لأجل ألا تضيق المدينة بأهلها ولأجل أن يَعظم منظرها في أعين المنافقين والمشركين عند توسعها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید