ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ طَعَامًا في سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایسے میں ایک اعرابی آیا جس نے دو ہی لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا“۔
تشریح
نبی ﷺ اپنے چھے صحابہ کرام کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس نے دو ہی لقموں میں کھانا ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا لیکن اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور باقی کھانا سارے کا سارا دو لقموں میں کھا گیا اور وہ اس کے لیے کافی نہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جب بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
تشریح: العربية
كان النبي صلى الله عليه وسلم يأكل مع ستة من أصحابه، فجاء أعرابي فدخل معهم فأكل الباقي بلقمتين، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أما إنه لو سمى لكفاكم، لكنه لم يُسَمِّ فأكل الباقي كله بلقمتين، ولم يكفه، وهذا يدل على أن الإنسان إذا لم يُسَمِّ نُزِعَت البركة من طعامه.
- أن الله يبارك في الطعام إذا ذكر اسم الله عليه، وأن البركة تُرفع بترك التسمية عليه.
- جواز المشاركة في الطعام بعد أخذ الإذن منهم.
- استحباب الاجتماع على الطعام وإن كان قليلًا.