حدیث

دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا : سوائے اس صورت کے، جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جَبَلَةَ بنِ سُحَيْمٍ، قال: أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مع ابنِ الزبيرِ؛ فَرُزِقْنَا تمرًا، وكان عبدُ اللهِ بنُ عمرَ رضي الله عنهما يَمُرُّ بنا ونحن نَأْكُلُ، فيقول: لا تُقَارِنُوا، فإنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم نهى عن القِرَانِ، ثم يقولُ: إلا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرجلُ أَخَاهُ.

ترجمہ

جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ: دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا :سوائے اس صورت کے، کہ جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔

تشریح

جبلہ بن سحیم نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ نبی ﷺ دو کھجوروں اور ان کے مثل جن چیزوں کو ایک ایک کرکے کھایا جاتا ہے ایک ساتھ ملا کر لوگوں کے ساتھ کھانے سے منع فرمایا ہے، اِلاّ یہ کہ اس کے ساتھی اس کی اجازت دیں تو کھایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو عادتاً ایک ایک کھائی جاتی ہو جیسے کھجور، تو زیادہ لوگوں میں ایک لقمے میں دو دو کھجوریں نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ یہ دوسرے بھائیوں کو تکلیف دینے کا باعث ہوگا۔ لہذا ان سے زیادہ نہ کھاؤ، اِلاّ یہ کہ ان سے اجازت لے لو۔ ان سے کہو کہ کیا تم مجھے ایک ساتھ دو کھجوریں کھانے کی اجازت دیتے ہو؟ اگر وہ اس کی اجازت دے دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ نوٹ: صحیح بخاری میں ہے: ”فَرَزَقَنَا“ چاروں پر فتحہ کے ساتھ ہے اور فاعل ابن زبیر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں دیں۔ اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے: ”فَرُزْقْنا“ راء کے پیش کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے، اس میں احتمال یہ ہے کہ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔

تشریح: العربية

عن جبلة بن سحيم قال: أصابنا عام قحط مع ابن الزبير رضي الله عنهما ، فأعطانا تمرا، فكان ابن عمر رضي الله عنهما يمر بنا ونحن نأكل، فيخبرنا أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يقرن الرجل بين التمرتين ونحوهما مما يؤكل أفرادا، إذا كان مع جماعة إلا بإذن أصحابه. فالشيء الذي جرت العادة أن يؤكل واحدة واحدة، كالتمر إذا كان معك جماعة فلا تأكل تمرتين في لقمة واحدة؛ لأن هذا يضر بإخوانك الذين معك، فلا تأكل أكثر منهم إلا إذا استأذنت، وقلت: تأذنون لي أن آكل تمرتين في آن واحد، فإن أذنوا لك فلا بأس. ملحوظة: في صحيح البخاري: فرزقنا بأربع فتحات، والفاعل ابن الزبير، والمعنى أعطانا، وفي رواية البيهقي: فرزقنا بضم الراء بالبناء للمجهول، ويحتمل الرازق الله تعالى .

  • الاجتماع على الطعام سنة ممدوحة، وفيه بركة بخلاف الفُرقة.
  • جواز مراقبة العلماء لمن دونهم لتعليمهم السنة.
  • تحريم ظلم الآخرين في الأكل والشرب وكافة شؤون الحياة.
  • كراهة القران في الطعام من غير إذن لمن يأكل معهم لما فيه من ظلم لرفيقه.
  • قال العلماء: إن كان يعلم رضا الشركاء بقرنه بينهما جاز، والنهي عن القرآن من حسن الأدب في الأكل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید