ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیا سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے دوری اختیار کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے طاقت بھر بجا لاؤ۔"
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ شرعی احکام کی تین قسمیں ہيں: وہ احکام جن سے خاموشی برتی گئی ہے، نواہی، اوامر۔ جہاں تک پہلی قسم یعنی ان احکام کا تعلق ہے، جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے، کوئی حکم وارد نہيں ہوا ہے، تو یاد رہے کہ اشیا میں اصل عدم وجوب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وجوب یا تحریم نازل نہ ہو جائے، کسی ایسی چيز کے بارے میں سوال نہ کرنا ضروری تھا، جو سامنے نہ آئی ہو۔ کیوں کہ اللہ نے بندوں پر رحمت کے طور پر اسے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد سوال اگر فتوی لینے یا دین کے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنے کے ارادے سے کیا جائے، تو نہ صرف یہ کہ جائز، بلکہ مامور بہ ہے۔ لیکن سوال اگر تعنت اور تکلف کے طور پر ہو، تو اس حدیث کی رو سے اس طرح کا سوال کرنا منع ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح کا سوال بالآخر اسی طرح کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جو بنی اسرائیل کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے، تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، لیکن انھوں نے بال کی کھال نکالنی شروع کی، تو ان کے لیے راہ تنگ ہوتی جلی گئی۔ دوسری قسم منہیات کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے چھوڑنے والے کو ثواب ملے گا اور کرنے والے کو سزا ہوگی۔ لہذا اس طرح کے کاموں سے دور رہنا واجب ہے۔ تیسری قسم اوامر کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور چھوڑنے والے کو سزا۔ اس طرح کے کاموں کو، جب تک قدرت ہو، کرنا واجب ہے۔
فوائد
- انسان کو ایسے کام میں مشغول ہونا چاہیے، جو زیادہ اہم ہو اور جس کی ضرورت ہو۔ ایسے کاموں سے دامن کش رہنا چاہیے، جن کی فی الحال ضرورت نہ ہو۔ اسی طرح جو چیز پیش نہ آئی ہو، اس کے بارے میں مسئلہ بھی نہيں پوچھنا چاہیے۔
- مسائل کو پیچیدہ کر دینے والے اور شبہات کا دروازہ کھولنے والے ایسے سوالات کرنا حرام ہے، جو کثرت اختلاف کا سبب بنتے ہوں۔
- تمام منہیات کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ انھیں چھوڑنے میں کوئی مشقت نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے نہی عام ہے۔
- جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھیں کرنے کا حکم استطاعت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ انھیں کرنے میں کبھی مشقت ہوتی ہے یا انہیں کبھی کرنے سے انسان عاجز ہوتا ہے ہے۔
- کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
- اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
- کثرت سے غیر ضروری سوال اور انبیا سے اختلاف ہلاکت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان امور سے متعلق، جن تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔ جیسے غیب کے مسائل، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور قیامت کے دن کے احوال۔
- مشکل مسائل کے بارے میں پوچھنے کی ممانعت۔ اوزاعی کہتے ہيں : جب اللہ بندے کو علم کی برکت سے محروم کرنا چاہتا ہے، تو اس کی زبان پر بہت ساری غلط باتیں ڈال دیتا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو آپ ىسب سے کم علم پائیں گے۔ ابن وہب کہتے ہيں: میں نے امام مالک کو کہتے ہوئے سنا: علمی جھگڑے آدمی کے دل سے علم کا نور لے جاتے ہیں۔
تشریح: العربية
ذَكَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّ الأحكام الشرعية على أقسام ثلاثة: ما سُكت عنه، ونواهي، وأوامر. فأما الأول: وهو ما سَكَتَ الشرعُ عنه: حيث لا حُكْم، وأنّ الأصل في الأشياء عدم الوجوب؛ فأما في عهده صلى الله عليه وسلم فيجب تركُ السؤال عن شيء لم يقع خشية أن ينزل به وجوب أو تحريم، فإن الله تركَها رحمة بالعباد، وأما بعد موته صلى الله عليه وسلم فإن كان السؤال على وجه الاستفتاء أو التعليم لما يحتاج إليه من أمر الدين فهو جائز بل مأمور به، وإن كان على وجه التَّعَنُّت والتكلُّف فهو المراد بترك السؤال عنه في هذا الحديث؛ وذلك لأنه قد يُفضي إلى مثل ما وقع لبني إسرائيل، إذ أُمروا أن يذبحوا بقرة فلو ذبحوا أيَّ بقرة لامتثلوا، ولكنهم شددوا فشُدِّد عليهم. الثاني: النواهي؛ وهي: ما يثاب تاركه، ويعاقب فاعله، فيجب اجتنابُها كلها. الثالث: الأوامر؛ وهو ما يثاب فاعله، ويعاقب تاركه، فيجب أن يفعل منه قدر الاستطاعة.
- ينبغي الانشغال بالأهم المُحتاج إليه، وترك ما لا يحتاج إليه في الحال، وعدم الاشتغال بالسؤال عما لم يقع.
- حرمة السؤال الذي ربما أوصل إلى تعقيد المسائل، وفتح باب الشبهات المفضية إلى كثرة الاختلاف.
- الأمر بترك كل المنهيات؛ لأنه لا مشقة في تركها، ولذلك كان النهي عنه عامًّا.
- الأمر بفعل المأمور به على قدر الاستطاعة؛ لأنه قد يلزم منه مشقة أو يعجز عنه؛ ولذا كان الأمر به على قدر الاستطاعة.
- النهي عن كثرة السؤال، قد قسم العلماء السؤال إلى قسمين: أحدهما: ما كان على وجه التعليم لما يحتاج إليه من أمر الدين، فهذا مأمور به ومن هذا النوع أسئلة الصحابة، والثاني: ما كان على وجه التعنت والتكلف وهذا هو المنهي عنه.
- تحذير هذه الأمة من مخالفة نبيها، كما وقع في الأمم التي قبلها.
- كثرة السؤال مما لا يُحتاج إليه والاختلاف على الأنبياء سببٌ للهلاك، ولا سيّما في الأمور التي لا يمكن الوصول إليها، مثل: مسائل الغيب التي لا يعلمها إلا الله، وأحوال يوم القيامة.
- النهي عن السؤال في شِداد المسائل، قال الأوزاعي: إن الله إذا أراد أن يحرم عبده بركة العلم ألقى على لسانه المغاليط، فلقد رأيتهم أقلَّ الناس علمًا، وقال ابن وهب: سمعت مالكًا يقول: المِراء في العلم يذهب بنور العلم من قلب الرجل.