ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: سَقَيْتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وهو قَائِمٌ. عن النَّزَّالِ بنِ سَبْرَةَ رضي الله عنه قال: أَتَى عَلِيٌّ رضي الله عنه بَابَ الرَّحَبَةِ، فَشَرِبَ قَائِمًا، وقال: إِنِّي رأيتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ. عن عمرو بن شُعّيْبٍ، عن أبيه، عن جَدِّهِ رضي الله عنه قال: رأيتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَشْرَبُ قَائِمًا وقَاعِدًا.
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا۔ تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔ نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ باب الرَّحَبَہ پر آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے اور بیٹھ کر دونوں ہی حالتوں میں پانی پیتے دیکھا۔
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو آبِ زمزم پلایا۔ تو آپ ﷺ نے اسے کھڑے ہو کر پیا۔ اور علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی طرح عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں حالتوں میں پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
تشریح: العربية
أخبر ابن عباس رضي الله عنهما أنه سقى النبي صلى الله عليه وسلم من ماء زمزم فشرب وهو قائم، وقد شرب علي بن أبي طالب رضي الله عنه قائمًا وقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما رأيتموني فعلت، وكذلك أخبر عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أنه رأى النبي -صلى الله عليه وسلم - يشرب قائمًا وقاعدًا.
- جواز الشرب قائما مع الكراهة، لورود أحاديث أخرى في النهي عن ذلك.
- ينبغي على العالم إذا رأى الناس اجتنبوا أمرا أو شيئا هو يعلم جوازه أن يوضح لهم وجه الصواب فيه؛ خشية أن يطول الأمر فيُظن تحريمه.
- استحباب بيان الحكم قولا وعملا.