حدیث

”کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی مسلمان عورت پر کسی محرم شخص کے بغیر ایک رات کی مسافت کا سفر کرنا حرام ہے۔

فوائد

  • ابن حجر کہتے ہیں: عورت کے لیے کسی محرم کی معیت کے بغیر سفر کرنا ناجائز ہے۔ اس بات پر امت کا اجماع ہے۔ البتہ حج، عمرہ اور دار الشرک سے نکلنے کا سفر اس اجماع سے مستثنی ہے، اور بعض اہل علم اسے حج کی شرائط میں سے ایک شرط قرار دیتے ہیں۔
  • اسلامی شریعت ایک با کمال شریعت ہے۔ اور اس نے عورت کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔
  • اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا تقاضہ ہے کہ شریعت الہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے اور اس کے حدود کی پاسداری کی جائے۔
  • عورت کا محرم اس کا شوہر ہے یا ایسا شخص ہے کہ نسبی رشتے یا رضاعتی رشتے یا سسرالی رشتے کی وجہ سے عورت اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو، اور وہ مسلمان، بالغ، عاقل، ثقہ اور مامون ہو۔ کیوں کہ محرم کا کام عورت کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔
  • وہ مدت سفر، جسے کوئى عورت کسی محرم کی معیت کے بغیر طے نہيں کر سکتی، اس کی بابت وارد روایات کے بارے میں بیہقی کہتے ہيں: "خلاصہ یہ ہے کہ جس مسافت کو بھی سفر کہا جائے، عورت کے لیے اسے شوہر یا محرم کے بغیر طے کرنا منع ہوگا۔ مسافت خواہ تین دن کی ہو، دو دن کی ہو، ایک دن کی ہو یا ایک برید وغیرہ کی ہو۔ اس کی دلیل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مطلق روایت ہے، جو صحیح مسلم کی سابقہ روایتوں میں سے سب سے آخری روایت ہے: (کوئی عورت کسی محرم کے بغیر سفر نہ کرے )۔ اس میں ہر اس دوری کو طے کرنا شامل ہے، جسے سفر کہا جائے"۔ انتهى۔ اور ابھی ہمارے سامنے جو حدیث ہے، وہ دراصل سائل اور اس کے حالات کے مطابق وارد ہوئی ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّه يَحْرُم على المرأة المسلمة أن تسافر مسيرة ليلة إلا أن يكون معها رجل مِن محارمِها.

  • قال ابن حجر: عدم جواز السفر للمرأة بلا مَحرَم، وهو إجماع في غير الحج والعمرة، والخروج مِن دار الشرك، ومنهم من جعل ذلك مِن شرائط الحج.
  • كمال الشريعة الإسلامية، وحرصها على صَوْن المرأة وحمايتها.
  • الإيمان بالله واليوم الآخر يَستلزم الخضوع لشرع الله، والوقوف عند حدودِه.
  • مَحْرَم المرأة هو زوجها أو مَن يَحرُم عليها بالتأبيد بسبب قرابة، أو رضاع، أو مصاهرة، ويكون مسلمًا بالغًا عاقلًا ثقة مأمونًا؛ فإنَّ المقصود من المحرم حماية المرأة وصيانتها والقيام بشأنها.
  • قال البيهقي عن الروايات الواردة في مُدَّة السفر الذي لا تسافر فيها المرأة إلا مع ذي مَحرم: والحاصل أنّ كل ما يُسمّى سفرًا تنهى عنه المرأة بغير زوج أو محرم سواء كان ثلاثة أيام أو يومين أو يومًا أو بَريدًا أو غير ذلك؛ لرواية ابن عباس المُطلَقة، وهي آخر روايات مسلم السابقة: {لا تسافر امرأة إلا مع ذي محرم} وهذا يتناول جميع ما يسمى سفرًا. انتهى، وهذا الحديث كان بحسب حال السائل وموطنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید