ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابنِ عُمَرَ رضي الله عنهما ، قال: كُنَّا على عَهْدِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم نَأْكُلُ ونحنُ نَمْشِي، ونَشْرَبُ ونحنُ قِيَامٌ.
ترجمہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہی پانی پی لیا کرتے تھے۔
تشریح
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ تاہم کھانے پینے کے معاملے میں افضل یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے پیے؛ کیوں کہ زیادہ تر نبی ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔ کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں تو نبی ﷺ کی حدیث بھی آئی ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، لیکن یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت حرمت کے بیان کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے بس یہ وضاحت ہوتی ہے کہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے، بایں معنی کہ زیادہ بہتر اور زیادہ درست تو یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے اور پیے، تاہم اگر وہ کھڑے کھڑے کچھ کھا پی لے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
تشریح: العربية
فعل الصحابة رضي الله عنهم يدل على أن الشرب من قيام جائزٌ، لإقراره عليه الصلاة والسلام لذلك، والأفضل في الأكل والشرب أن يكون الإنسان قاعدا؛ لأن هذا هو هدي النبي صلى الله عليه وسلم الأغلب، أما الشرب وهو قائم فإنه صح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن ذلك، لكن هذا الحديث دليل على أن النهي ليس للتحريم، ولكنه خلاف الأولى بمعنى: أن الأحسن والأكمل أن يشرب الإنسان وهو قاعد وأن يأكل وهو قاعد، ولكن لا بأس أن يشرب وهو قائم، وأن يأكل وهو قائم.
- بيان جواز الشرب والأكل قائمًا وقاعدًا وماشيًا، وإن كان الأكمل والأفضل أن يكون ذلك حال القعود.