ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بناقة مَخْطُومَةٍ، فقال: هذه في سبيل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لك بها يوم القيامة سبعمائة ناقة كلها مخطومة».
ترجمہ
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی ہوئی اونٹنی لے کر آیا اور نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ (یارسول اللہ!) یہ اونٹنی اللہ کے راستہ میں (دیتا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں ایسی سات سو اونٹنیاں ملیں گی کہ ان سب کی نکیل پڑی ہوئی ہوگی“۔
تشریح
ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نکیل پڑی اونٹنی لے کر آیا۔ ”مَخْطُومَةٌ“ سے مراد ہے کہ وہ رسی سے بندھی ہوئی تھی۔ یہ رسی لگام کی طرح کی ہوتی ہے جس سے اونٹنی کو باندھا جاتا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ اونٹنی اللہ کے راستے میں وقف ہے، یعنی میں اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کرتا ہوں تاکہ یہ جنگ میں کام آئے۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”تمہیں اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گے“ کیوں کہ اللہ تعالی نیکی کا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑھا کر اس کا بدلہ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس قول میں ارشاد فرمایا کہ: ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ ”جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے“۔ ”كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ“ نکیل کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے اونٹنی کا مالک اونٹنی کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے۔ یہ بہترین بدلہ دینا ہے، جیسے یہ شخص نبی ﷺ کے پاس اونٹنی کو اس حال میں لے کر آیا کہ وہ نکیل سے بندھی ہوئی تھی اسی طرح اللہ بھی اسے ایسی سات سو اونٹنیاں بطورِ جزاء عطاء فرمائے گا جو سب کی سب نکیل سے بندھی ہوں گی؛ جو شخص اس دنیا میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ ہر وہ اضافی چیز جسے وہ خرچ کرتا ہے اس کا اسے بدلہ دیا جائے گا، نکیل کی ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ اونٹنی میں خوبصورتی اور اضافی شے کی حیثیت رکھتی ہے۔
تشریح: العربية
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بناقة مَخْطُومَةٌ، أي مَشْدُودةٌ بِحَبل، وهو قريب من الزمام التي تُشَدُّ به الناقة، فقال الرجل: يا رسول الله، هذه في سَبِيلِ الله، أي أوقفها في الجهاد في سبيل الله تعالى ، للغزو بها. فقال له -صلى لله عليه وسلم-: "لك بها سَبْعُمائَةِ نَاقة "؛ وذلك لأن الله تعالى يُضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سَبعمائة ضِعف إلى أضْعَاف كثيرة، كما في قوله تعالى : (مَثَل الذين ينفقون أموالهم في سبيل الله كَمثَلِ حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة والله يضاعف لمن يشاء والله واسع عليم). قوله: "كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ " فائدة الخِطام: زيادة تمكن صاحبها من أن يعمل بها ما أراد، وهذا من حسن الجزاء، فكما أن هذا الرجل جاء بناقته إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- مَشْدُودٌ عليها بالخِطام، جزاه الله بسبعمائة ناقة كلها مَشْدُودٌ عليها بالخِطام؛ وليعلم من ينفق في الدنيا أن كل زيادة يقدمها سيحزى بها، والخطام له قيمة وجمال وزيادة في الناقة.
- النفقة في سبيل الله يضاعفها الله سبع مئة ضعف.
- حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على البذل في سبيل الله.
- الجزاء من جنس العمل.
- من أساليب الدعوة الترغيب.
- الترغيب في التبرع بما يستعان به على القتال من فرس أو ناقة أو غير ذلك، والله يضاعف على ذلك الأجر.