ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخَر، حتى تختلطوا بالناس؛ من أجل أن ذلك يحُزنه".
ترجمہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم دیگر لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی“۔
تشریح
مذہب اسلام اپنے ماننے والوں کے لئے اس بات کو لازمی قرار دیتا ہےکہ مجلس کے آداب کا خیال رکھا جائے اچھی گفتگو ہو تاکہ مجلس میں کوئی شکستہ خاطرنہ ہو، اور ان تمام چیزوں سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے جو کسی مسلمان کے ساتھ بد سلوکی، اس کے لیے خوف اور بد گمانی کا سبب بنیں، اور انہیں میں سےایک یہ بھی ہے کہ جب تین آدمی ایک ساتھ ہوں اور ان میں سے دو آپس میں تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی کریں تو یہ چیز تیسرے کے ساتھ بد سلوکی ہےاور یہ اسے رنجیدہ کر دے گی اور اسے اس بات کا احساس دلائے گی کہ وہ ان دونوں کے ساتھ گفتگو کے قابل نہیں۔ ساتھ ہی اسے اکیلاپن اور تنہائی کا احساس دلائے گی۔ اسی لیے شریعت اسلا میہ نے اس قسم کی سرگوشی سے روکا ہے۔
تشریح: العربية
الإسلام يأمر بجبر القلوب وحسن المجالسة والمحادثة، وينهى عن كل ما يسيء إلى المسلم ويخوفه ويوجب له الظنون، فمن ذلك أنه إذا كانوا ثلاثة فإنه إذا تناجى اثنان وتسارّا دون الثالث الذي معهما فإن ذلك يسيئه ويحزنه ويشعره أنه لا يستحق أن يدخل معهما في حديثهما، كما يشعره بالوحدة والانفراد، فجاء الشرع بالنهي عن هذا النوع من التناجي.
- الإسلام يأمر بجبر القلوب، وحسن المجالسة، وينهى عن كل ما يسيء إلى المسلم ويحزنه ويوجب له الظنون، ومن ذلك الأدب الذي تضمنه الحديث.
- يفهم من الحديث أنهم إذا كانوا أكثر من ثلاثة فلا بأس بالتناجي والتّسارّ.
- من التناجي أن يتكلما بلغة لا يحسنها الثالث.
- ظاهر الحديث أن هذا النوع من التناجي محرّم.
- ظاهر الحديث أيضا أن النهي عن التناجي إنما هو في حالة ما إذا تأذى به مسلم، أما إذا لم يحصل الأذى فلا بأس، كأن يُستأذن.