حدیث

سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «السفر قطعة من العذاب، يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه، فإذا قضى أحدكم نَهْمَتَهُ من سفره، فليُعَجِّلْ إلى أهله».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی سفر سے اپنی غرض پوری کرچکے تو فوراً اپنے گھر والوں کے پاس واپس آجائے“۔

تشریح

نبیﷺ اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یعنی یہ عذاب کا ایک حصہ ہے۔ عذاب سے مراد یہاں وہ تکلیف ہے جو مشقت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیوں کہ سواری اور چلنے پھرنے میں بندہ اپنی عمومی روٹین کو چھوڑ دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ:”آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے“ یعنی یہ اشیاء اسے بطریق احسن اور اس طرح اسے نہیں ملتی جس میں اسے لذت حاصل ہو کیوں کہ سفر میں دشواری و تکان لاحق ہوتی ہے اور گرمی و سردی، خوف اور گھر والوں اور ساتھیوں کی جدائی جھیلنی پڑتی ہے اور دشواری کی حالت میں زندگی گزارنا پڑتی ہے کیوں کہ مسافر کا دل اپنے سفر میں مشغول ہوتا ہے۔ چنانچہ عام دنوں میں جس طرح سے وہ کھاتا پیتا ہے دوران سفر وہ ویسے نہیں کھاتا پیتا۔ یہی حال اس کی نیند کا ہوتا ہے۔ جب سفر میں ان سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر بار اور اپنے علاقے کی طرف لوٹ آئے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال اور تادیب کر سکے۔

تشریح: العربية

يبين النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أنّ (السفر قطعة من العذاب) أي: جزء منه، والمراد بالعذاب: الألم الناشئ عن المشقة؛ لما يحصل في الركوب والمشي من ترك المألوف. وأنّ: (يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه) أي: يمنعه كمالها ولذيذها؛ لما فيه من المشقة والتعب ومقاساة الحر والبرد والخوف ومفارقة الأهل والأصحاب وخشونة العيش، لأن المسافر مشغول البال، ولا يأكل ويشرب كطعامه وشربه العادي في أيامه العادية، وكذلك في النوم، فإذا كان كذلك، فليرجع الإنسان إلى الراحة إلى أهله وبلده؛ ليقوم على أهله بالرعاية والتأديب وغير ذلك.

  • السفر قطعة من العذاب لما فيه من المشقة، وفراق المألوف، والأحباب.
  • كراهة التغرب عن الأهل لغير حاجة.
  • الإقامة عند الأهل خير من السفر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید