حدیث

تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنسٍ رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرجلُ قَائِمًا. قال قَتَادَةُ: فقلنا لأنسٍ: فالأَكْلُ؟ قال: ذلك أَشَرُّ - أو أَخْبَثُ. وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم زَجَرَ عن الشُّرْبِ قائمًا. عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ منكم قَائِمًا، فمن نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑے ہو کر کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ تو اس سے بھی برا ہے یا کہا اس سے بھی گندا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دے“۔

تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑے ہوکرکھانے کا کیا حکم ہے؟ کیا کھڑے ہو کر کھانا بھی پینے کی طرح ممنوع ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تو بطریق اولی ممنوع ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر کھانا تو زیادہ برا اور گندا ہے۔ ”نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا“۔ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی کھڑے ہوکر پیے۔ جو شخص بھول کر ایسا کر لے، تو مستحب یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں جو کچھ ہو، اسے نکال دے۔ تاہم ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر پینا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے۔

تشریح: العربية

قال أنس رضي الله عنه : نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الشرب قائما، فقال قتادة بن دعامة السدوسي رحمه الله : فقلنا لأنس رضي الله عنه فما حكم الأكل قائما؟ أمنهي عنه كالشراب، فقال أنس: هو أولى بذلك، فهو أشر وأخبث. منع النبي صلى الله عليه وسلم من الشرب قائما. نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يشرب أحد قائما، فمن نسي وفعل ذلك فليخرج ما في جوفه استحبابا، وإلا فلا إثم عليه؛ لأن الشرب قائما مكروه وليس بمحرم.

  • النهي عن الشرب قائما، وأن الأكل كذلك أشد كراهة.
  • يستحب لمن شرب قائما أن يتقيأ ما شربه؛ زجرا لنفسه عن مخالفة السنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید