حدیث

رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنِ النَّفْخ في الشّراب، فقال رجل: القَذَاة أَرَاهَا في الإناء؟ فقال: «أَهْرِقْهَا». قال: إِنِّي لا أَرْوى من نَفَس واحد؟ قال: «فَأَبِنِ القدح إذًا عن فِيك».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا، اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر مجھے پانی میں کوئی تنکا نظر آ جاتا ہے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سانس لو، تو پیالہ اپنے منہ سے ہٹا دو۔

تشریح

نبی ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات پانی میں کوئی تنکا ہوتا ہے اور اسے نکالنےکے لیے انسان پھونک مارتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جس پانی میں تنکا وغیرہ ہو، اس میں پھونک نہ مارو؛ بلکہ اسے انڈیل دو۔ اس شخص نے مزید پوچھا کہ وہ اگر ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، تو پھر کیا کرے؟ اس پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے اور پھر دوبارہ پی لے۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النفخ في الشراب، فسأله رجل، فقال: يا رسول الله القذاة تكون في الشراب فينفخها الإنسان من أجل أن تخرج، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : صب الماء الذي فيه القذاة ولا تنفخ فيه ثم سأله: أنه لا يروى بنفس واحد، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يبعد الإناء عن فمه ثم يتنفس ثم يعود فيشرب.

  • النهي عن النفخ في الشراب أثناء الشراب أو بعده، حتى ولو كان لإبعاد وسخ وما شابهه.
  • إذا وجد في الشراب وسخ سكب منه لإزالة هذا الوسخ.
  • حرص الإسلام على الصحة، وعدم تعريض الجسم للأمراض والأوساخ والمستقذرات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید