ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قَال: عَادَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً».
ترجمہ
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد کو شفا دے، اے اللہ ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔
تشریح
سعد بن ابی وقاص کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ جب بیمار تھے تو ان کی عیادت کی اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے“ ایسا آپ ﷺ نے تین دفعہ کہا۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ آدمی کا کسی مسلمان مریض کی عیادت کے لیے جانا سنت ہے۔اس حدیث میں آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انداز معاملت کی بھی وضاحت ہے۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے جو مریض ہوتے ان کی عیادت کے لیے جاتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں اس طرح کی دعا مانگنے کے استحباب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ”اے اللہ ! فلاں شخص کو شفا عطا فرما “، تین دفعہ نام لے کر ایسا کہیں گے ۔ مریض کے شفایاب ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔
تشریح: العربية
حديث سعد بن أبي وقاص أن النبي صلى الله عليه وسلم عاده في مرضه فقال: "اللهم اشف سعداً، اللهم اشف سعداً، اللهم اشف سعداً" ثلاث مرات، ففي هذا الحديث دليل على أن من السنة أن يعود الإنسان المريض المسلم، وفيه أيضاً حسن خلق النبي صلى الله عليه وسلم ومعاملته لأصحابه، فإنه كان صلى الله عليه وسلم يعود مرضاهم ويدعو لهم، وفيه أنه يستحب أن يدعى بهذا الدعاء: اللهم اشف فلاناً، وتسميه ثلاث مرات، فإن هذا مما يكون سبباً في شفاء المريض،
- استحباب الدعاء للمريض بالشفاء، وتخصيصه بذلك.
- استحباب عيادة المريض للإمام، كاستحبابها لآحاد الناس.
- جواز طلب الشفاء من الله تعالى.
- استحباب الإلحاح في الدعاء.