حدیث

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن سهل بن سعد رضي الله عنه : أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بشرابٍ، فَشَرِبَ منهُ وعن يميِنِه غُلامٌ، وعن يسارِه الأشياخُ، فقالَ للغُلامِ: "أَتَأذَنُ لِي أنْ أُعْطِيَ هؤلاء؟"، فقالَ الغلامُ: لا واللهِ يا رسولَ اللهِ، لا أُوثِرُ بنَصِيبي منك أحداً. فَتَلَّهُ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم في يدِه.

ترجمہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب بڑی عمر کے لوگ بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے لڑکے سے پوچھا کہ ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان کو دے دو؟“۔ لڑکے نے کہا کہ اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ!۔میں آپ سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس مشروب (کے برتن کو) اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔

تشریح

حدیث میں نبی ﷺ نے لڑکے سے اس بات کی اجازت لینا چاہی کہ وہ مشروب کو اس سے پہلے بڑے لوگوں کو دے دیں۔ آپ ﷺ ایسا بڑی عمر کے لوگوں کا دل رکھنے، ان سے اظہارِ محبت اور ان کی بزرگی کے ایثار میں کیا کیونکہ از روئے سنت یہ ممنوع نہیں تھا۔ اس میں اس سنت کا بیان ہے کہ دائیں طرف والا زیادہ حق دارہوتا ہے اور کسی اور کو اس کی اجازت کے بغیر نہیں دیا جا سکتا تاہم اس سے اجازت مانگنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اجازت دے ہی دے، بلکہ اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ اگر اجازت دینے سے کوئی فضیلت یا دینی مصلحت ہاتھ سے نکل رہی ہو تو وہ اجازت نہ دے۔ یہ لڑکے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔

تشریح: العربية

في الحديث استأذن النبي –صلى الله عليه وسلم- الغلام في إعطاء الشراب الأشياخ قبله، وإنما فعل ذلك تألفاً لقلوب الأشياخ، وإعلاماً بودهم، وإيثار كرامتهم، إذا لم تمنع منها سنة، وتضمن ذلك بيان هذه السنة وهي أن الأيمن أحق، ولا يدفع إلى غيره إلا بإذنه، وأنه لا بأس باستئذانه، وأنه لا يلزمه الإذن، وينبغي له أيضاً أن لا يأذن إن كان فيه تفويت فضيلة أخروية ومصلحة دينية، وهذا الغلام هو ابن عباس رضي الله عنهما .

  • سنة الشرب العامة تقديم الأيمن في كل موطن.
  • من استحق شيئاً لم يُدفع عنه إلا بإذنه.
  • استحباب توقير الكبار، وإنزال الناس منازلهم في الفضل والكرامة.
  • حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على ما ينفعهم.
  • البدء بالضيافة بأفضل من في المجلس، ثم من على يمينه.
  • من يسبق إلى مجالسة الإمام والعالم أنه لا يقام لمن هو أسن منه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید