حدیث

کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قالَ: "لا يَتَمَنَّ أحَدُكَم الموتَ، إما مُحسِناً فلعلَّه يَزْدَادُ، وإما مُسِيئاً فلعلَّه يَسْتَعْتِبُ". وفي رواية قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يَتَمَنَّ أحَدُكُم الموتَ، ولا يَدْعُ به من قبلِ أنَ يَأتيَه؛ إنه إذا ماتَ انقطعَ عملُهُ، وإنه لا يَزيدُ المؤمنَ عُمُرُهُ إلا خيراً".

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے“۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی موت کی خواہش نہ کرے اور اس کے خود آنے سے پہلے اس کے آنے کی دعا نہ کرے۔ کیوں کہ جب وہ مر جائے گا تو اس کا عمل منقطع ہوجائے گا جب کہ مومن کی عمر اس کی نیکیوں میں اضافہ ہی کرتی ہے“۔

تشریح

آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے“ یہاں ممانعت حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیوں کہ موت کی آرزو کرنے میں اللہ کی قضاء پر عدمِ رضا کا پہلو ہوتا ہے جب کہ مومن پر فرض ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اس پر صبر کرے۔جب وہ کسی مصیبت پر صبر کرتا ہے تو اسے دو اہم باتیں حاصل ہوتی ہیں: اول: گناہ معاف ہوتے ہیں۔ انسان کو جب بھی کوئی دکھ، غم، تکلیف اور کوئی بھی ایسی شے پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کےگناہ معاف کر دیتا ہے حتی کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی گناہ کا کفارہ بنتا ہے۔ دوم: اگر اسے اس بات کی توفیق حاصل ہو جائے کہ وہ اس پر اللہ سے اجر کا امید وار ہو اور اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر کرے تو اسے ثواب ملتا ہے۔ جب کہ موت کی تمنا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر صابر اور اس پر خوش نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اگر آدمی نیک لوگوں میں سے ہو گا تو زندگی کے باقی رہنے کی وجہ سے اس کے نیک اعمال میں اضافہ ہوگا۔ مومن جب بقید حیات رہتا ہے، چاہے تکلیف اور مصیبت میں ہی مبتلا ہو، اس کی نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں۔ اگر وہ برا آدمی ہے اور اس نے کوئی برا عمل کیا ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ توبہ کر لے یعنی اللہ سے اس کی خوشنودی مانگ لے اور اس سے معذرت کر لے اور پھر اس کی موت آئے تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ چنانچہ موت کی آرزو نہ کرو کیوں کہ کوئی بھی حالت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ پس چاہیے کہ انسان صبر کرے اور اس پر اجر کا طلب گار ہو۔ یہ محال ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت رہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ موت کی تمنا اور دعا کرنے کی ممانعت میں یہ مفہوم ہے کہ موت کی وجہ سے عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ زندگی کی وجہ سے عمل ہوتا ہے اور عمل ہی سے ثواب میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اگر کوئی عمل نہ بھی ہو تو تب بھی وحدانیت کے اقرار کا جاری رہنا سب سے افضل عمل ہے۔ یہاں یہ اشکال نہیں ہونا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ شخص زندہ رہے تو العیاذ باللہ ایمان ہی سے پھر جائے کیوں کہ ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ جب ایمان کی تازگی دلوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر کوئی اسے ناپسند نہیں کرتا۔ اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو شاذ و نادر ہو گا۔ اللہ کے ازلی علم میں جس کا خاتمہ برا لکھا گیا ہے اس کا برا خاتمہ ہو کر ہی رہے گا چاہے اس کی عمر لمبی ہو یا مختصر۔ چنانچہ اس کے لیے موت کو جلدی طلب کرنے میں کوئی اچھائی نہ رہے۔ اس حدیث میں اشارۃً مومن كے لیے اس کے نیک کاموں پر اس کے لیے خوشخبری ہے جب کہ بدکار کو اس کے برے عمل سے ڈرایا گیا ہے۔ گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ نیک شخص کو موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے اپنے نیک اعمال میں جُٹا رہنا چاہیے اور ان میں اور اضافہ کرنا چاہیے اور جو برا شخص ہو اسے بھی موت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ برائی سے باز آجائے تاکہ کہیں برائی کرتے کرتے ہی اس کی موت نہ آ جائے۔چنانچہ ایسا شخص خطرے میں ہوتا ہے۔

تشریح: العربية

قوله عليه الصلاة والسلام: "لا يتمن أحدكم الموت"، والنهي هنا للتحريم؛ لأن تمني الموت فيه شيء من عدم الرضا بقضاء الله، والمؤمن يجب عليه الصبر إذا أصابته الضراء، فإذا صبر على الضراء نال شيئين مهمين: الأول: تكفير الخطايا فإن الإنسان لا يصيبه هم ولا غم ولا أذى ولا شيء إلا كفر الله به عنه حتى الشوكة يشاكها فإنه يكفر بها عنه. الثاني: إذا وفق لاحتساب الأجر من الله وصبر يبتغي بذلك وجه الله فإنه يثاب، أما كونه يتمنى الموت فهذا يدل على أنه غير صابر على ما قضى الله عز وجل ولا راض به، وبين الرسول عليه الصلاة والسلام أنه إما أن يكون من المحسنين فيزداد في بقاء حياته عملاً صالحاً، فالمؤمن إذا بقي ولو على أذى ولو على ضرر فإنه ربما تزداد حسناته. وإما مسيئاً قد عمل سيئاً فلعله يستعتب أي يطلب من الله العتبى أي الرضا والعذر، فيموت وقد تاب من سيئاته فلا تتمن الموت؛ لأن الأمر كله مقضي، فيصبر ويحتسب، فإن دوام الحال من المحال. وفيه إشارة إلى أن المعنى في النهي عن تمني الموت والدعاء به هو انقطاع العمل بالموت، فإن الحياة يتسبب منها العمل، والعمل يحصل زيادة الثواب ولو لم يكن إلا استمرار التوحيد فهو أفضل الأعمال، ولا يرد على هذا أنه يجوز أن يقع الارتداد والعياذ بالله تعالى عن الإيمان؛ لأن ذلك نادر، والإيمان بعد أن تخالط بشاشته القلوب لا يسخطه أحد، وعلى تقدير وقوع ذلك وقد وقع لكن نادراً، فمن سبق له في علم الله خاتمة السوء، فلا بد من وقوعها طال عمره أو قصر، فتعجيله بطلب الموت لا خير له فيه. وفي الحديث إشارة إلى تغبيط المحسن بإحسانه، وتحذير المسيء من إساءته، فكأنه يقول من كان محسناً فليترك تمني الموت وليستمر على إحسانه، والازدياد منه، ومن كان مسيئاً فليترك تمني الموت وليقلع عن الإساءة لئلا يموت على إساءته، فيكون على خطر.

  • بعد الموت ينقطع العمل، ويبدأ الإنسان جني ثمار عمله وتحصيله في الدنيا.
  • ينبغي على المرء أن يستغل جميع حياته في طاعة الله والازدياد منها، ومراجعة نفسه والتوبة مما بدر منه من المعاصي والآثام.
  • النهي عن تمني الموت لضر أصابه من مرض أو فقر أو نحو ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید