حدیث

رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھالیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أكل طعاما، لعق أصابعه الثلاث. قال: وقال: «إذا سقطت لُقمة أحدكم فليُمِطْ عنها الأذى، وليأكلها ولا يَدَعْهَا للشيطان» وأمر أن تُسْلَتَ القَصْعَةُ، قال: «فإنكم لا تدرون في أيِّ طعامكم البركة» وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قالَ: "إنّ الشيطانَ يَحضُرُ أحدَكُم عندَ كلِ شيءٍ من شَأنِه، حتى يَحضُرَهُ عندَ طعامِهِ، فإذا سَقطتْ لقمةُ أحدِكُم فليَأخُذْها فَلْيُمِطْ ما كانِ بها من أذى، ثم ليَأكُلْها ولا يَدَعْها للشيطانِ، فإذا فَرَغَ فليَلْعَقْ أصابعَهُ، فإنه لا يَدري في أيِّ طَعامه البركة"

ترجمہ

انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے گندگی کو جھاڑ کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (کھانے کے) برتن کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے“۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔

تشریح

حدیث میں شیطان سے ڈرایا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے تمام افعال میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چنانچہ مناسب یہ ہے کہ انسان (اس سے مقابلے کے لیے) تیار اور اس سے چوکنا رہے اور اس کی مزین کردہ باتوں سے دھوکا نہ کھائے۔ انسان کے سامنے جو کھانا آتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ برکت کھانے کے اس حصے میں ہے جسے اس نے کھا لیا ہے یا پھر اس حصے میں جو اس کی انگلیوں پر لگا ہے یا جو پلیٹ کے پیندی میں لگا رہ گیا ہے یا پھر اس لقمے میں جو نیچے گر گیا ہے۔چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سب کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ اسے برکت حاصل ہو سکے۔ برکت کا حقیقی معنی ہے بھلائی کا زیادہ ہونا، اس کا باقی رہنا اور اس سے نفع اٹھانا۔ یہاں مراد وہ کھانا ہے جس سے غذائیت حاصل ہو، جس میں کوئی گندگی نہ ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی قوت پیدا کرے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا کھاتے ہوئے ایسی شے نکلتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔

تشریح: العربية

في الحديث التحذير من الشيطان، والتنبيه على ملازمته للإنسان في تصرفاته، فينبغي أن يتأهب ويحترز منه ولا يغتر بما يزينه له، والطعام الذي يحضره الإنسان فيه بركة، ولا يدرى أن تلك البركة فيما أكله أو فيما بقي على أصابعه أو في ما بقي في أسفل الصحن أو في اللقمة الساقطة، فينبغي أن يحافظ على هذا كله لتحصل البركة، وأصل البركة الزيادة وثبوت الخير والانتفاع به، والمراد هنا: ما يحصل به التغذية وتسلم عاقبته من أذى ويقوى على طاعة الله تعالى. و هنا فائدة ذكرها بعض الأطباء أن الأنامل تفرز عند الأكل شيئاً يعين على هضم الطعام.

  • استحباب لعق الأصابع بعد الأكل قبل غسلها.
  • السنة في تناول الطعام أخذه بثلاث أصابع.
  • حرص الإسلام على المحافظة على المال، وعدم ضياعه مهما كان قليلاً.
  • استحباب أكل اللقمة الساقطة كسراً لنفسه، وتواضعاً لربه، والتماساً للبركة.
  • الإسلام يدعو إلى النظافة، فإذا وقع الطعام فينبغي إزالة الأذى عنه قبل أكله.
  • الشيطان قد يشارك العبد في طعامه وشرابه إذا لم يحترز منه بالوسائل الشرعية.
  • بيان سمو الشريعة، وأنها شريعة مبنية على المصالح، فما من شيء أمر الله ورسوله -صلى الله عليه وسلم- إلا والمصلحة في وجوده.
  • زيادة اطمئنان النفس؛ لأن الإنسان بشر قد يكون عنده إيمان وتسليم بما حكم الله به ورسوله، لكن إذا ذكرت الحكمة ازداد إيماناً، وازداد يقيناً.
  • في الحديث رد على من كره لعق الأصابع استقذاراً، لكن يكون ذلك مستقذراً لو فعله في اثناء الأكل لأنه يعيد أصابعه في الطعام وعليها أثر ريقه.
  • حسن تعليم الرسول عليه الصلاة والسلام، وأنه إذا ذكر الحكم ذكر الحكمة منه

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید