حدیث

جسے کوئی خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ وہ ہلکی پھلکی چیز ہے اور اس کی مہک خوشگوار ہوتی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من عُرِضَ عليه رَيْحَانٌ فلا يرده، فإنه خفيف الْمَحْمِلِ، طيب الريح».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ وہ ہلکی پھلکی چیز ہے اور اس کی مہک خوشگوار ہوتی ہے“۔

تشریح

جسے خوشبو پیش کی جائے یا بطور تحفہ دی جائے اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کر لے کیونکہ اس کے اٹھانے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کی مہک خوشگوار بھی ہوتی ہے ۔

تشریح: العربية

من أُهدي إليه طيب أو عُرِض عليه التطيب به فينبغي قبوله، فإنه لا مشقة في حمله وكذلك ريحه طيب.

  • استحباب قبول هدية الريحان؛ فإنه لا تكثر المنة بأخذه، وقد جرت العادة بالتسامح في بذله.
  • ينبغي على المسلم أن يكون طيب الريح ويستعمل الطيب.
  • استحباب عرض المسلم على إخوانه الطيب ولاسيما عند حضور الجمع والجماعات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید