ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحرواه البخاري
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت تھی کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے۔ کوئی خوش بو ہدیہ کرے، تو قبول کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ ایک تو اسے ساتھ رکھنا آسان ہوتا ہے اور دوسرا اس کی بو بھی اچھی ہوتی ہے۔
فوائد
- خوش بو کا ہدیہ قبول کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اسے ساتھ رکھنا مشکل نہیں ہے اور اسے قبول کرنے سے کسی کے احسان تلے دبنا نہيں پڑتا۔
- یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا ہے کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے اور ہدیہ کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے تھے۔
- خوش بو استعمال کرنے کی ترغیب۔
تشریح: العربية
كان مِن هَديِ النبيِّ صلى الله عليه وسلم أنه لا يَرُدُّ الطِّيْبَ ويَقْبَلَه؛ لأنه خفيفُ المَحمل وطَيِّبُ الرَّائحة.
- استحباب قبول عَطِيَّةِ الطِّيْبِ؛ لأنه لا مُؤْنَة لحملِه ولا مِنَّةَ في قبوله.
- كمال وحسن خلق النبي صلى الله عليه وسلم في عدم رد الطيب، وقبول هدية من يهدي إليه.
- الترغيب في استعمال الطيب.