حدیث

ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم : "بينا أيوبُ -عليه السلام- يَغتَسلُ عُرياناً، فَخَرَّ عليه جَرَادٌ من ذَهَبٍ، فجعلَ أيوبُ يَحْثِي في ثوبِهِ، فنَاداه ربُّه عز وجل : يا أيوبُ، ألَمْ أكنْ أغْنَيتك عما تَرى؟!، قال: بلى وعزتِك، ولكن لا غِنى بي عن بركتِكَ".

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں۔ ایوب (علیہ السلام) اسے اپنے کپڑے میں لپ بھر بھر کے سمیٹنے لگے، اتنے میں ان کے رب عز وجل نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تمھیں اس چیز سے بے نیاز نہیں کر دیا تھا؟ ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا: کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم! لیکن تیری برکت سے میرے لیے بےنیازی کیوں کر ممکن ہے“۔

تشریح

(ایک مرتبہ) ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ اچانک ان کے اوپر بہت سارا سونا بشکل ٹڈی گرا تو ایوب علیہ السلام اسے پکڑنے اور اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تمھیں اس سے بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم! لیکن میں تو اسے دنیا کی ہوس اور لالچ کے طور پر نھیں لے رہا ہوں، بس یہ تو تیری برکتوں میں سے ہے اسی ناطے لے رہا ہوں۔

تشریح: العربية

كان أيوب -عليه السلام- يغتسل عريانًا، فسقط عليه ذهب كثير على هيئة الجراد، فجعل أيوب -عليه السلام- يأخذه ويرميه في ثوبه، فناداه ربه عز وجل : ألم أكن أغنيتك عن هذا؟ فقال: بلى وعزتك، ولكني لم آخذه شرهًا وحرصًا على الدنيا، إنما لكونه بركةً منك.

  • جواز الحرص والاستكثار من الحلال في حق من وثق من نفسه بالشكر.
  • جواز الاغتسال عرياناً إذا كان وحده في خلوة، وإن تستر فالستر أولى، وهو مذهب الجمهور.
  • الحث على التماس ما يزداد الإنسان به بركةً وفضلًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید