حدیث

ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أنه كان يقول: «شر الطعامِ طعامُ الوليمة، يُدعى لها الأغنياء ويُترك الفقراء، ومن تَرك الدعوة فقد عصى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مال داروں کو اس کی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی‘‘۔

تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس اثر ــــــــــ جو کہ مرفوع کے حکم میں ہے جیسے یہ قول خود نبی ﷺ ہی سے یہ قول مروی ہو ــــــــــ سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ یقیناً بدترین کھانا، اس ولیمہ کا کھانا ہے جو دلہن کی زفاف کے موقعہ پر تیار کیا جاتا ہے لیکن یہ (وعید) اسی صورت میں ہے جب اس میں محض صاحبِ حیثیت افراد ہی کو مدعو کیا جائے اور محتاجوں و فقیروں کو پوچھا بھی نہ جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے میں ان محتاجوں و فقیروں کو حقیر و کمتر سمجھا جاتاہے اور ان مال داروں کو دعوت دینے کا مقصود محض دکھاوا، نام و نمود اور شہرت طلبی ہوتا ہے لہذا اس مقصد کے تحت کھلایا جانے والا کھانا بدترین ہوگا لیکن اگر اس دعوت میں دونوں فریق بھی شریک ہوجائیں تو اس ولیمہ سے بدترین ہونے کی صفت ختم ہوجائے گی، ورنہ ولیمہ کی اصل یہ ہے کہ وہ مشروع و جائز عمل ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نکاح کی اس نعمت پر شکر کا اظہار ہو۔ نیز اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس نے بلاکسی عذر، ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کیاتو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہوگا، کیونکہ دعوت کو قبول کرنے میں پائے جانے والی مصلحتوں کی بناء پر یہ حکم حتمی نوعیت (وجوب) کا حامل ہے۔

تشریح: العربية

أفاد هذا الأثر عن أبي هريرة -رضي الله عنه، والذي له حكم الرفع كما أنه قد روي من قوله -عليه الصلاة والسلام- أن شر الطعام هو طعام الوليمة الذي يصنع للزفاف لكنه مخصوص بدعوة الأغنياء فقط دون الفقراء، وذلك احتقارًا لهؤلاء الفقراء، وكون القصد من دعوة هؤلاء الأغنياء هو الرياء والسمعة وطلب الشهرة، فلهذا صارت بهذا القصد من شر الطعام، لكن لو شملت الدعوة الفريقين زالت الشرية عنها، وإلا فأصل الوليمة مشروع إظهارا لشكر الله على نعمة النكاح، ثم أفاد الحديث أن من ترك إجابة دعوة الوليمة من غير عذر كان عاصيًا لله ورسوله، لأنَّ الأمر بها متحتم لما في إجابتها من المصالح.

  • إذا كانت الوليمة يدعى إليها الأغنياء ويترك دعوة الفقراء كانت من شر الطعام.
  • وجوب إجابة الدعوة إلى الوليمة؛ لأن النبي -عليه الصلاة والسلام- جعل تارك الإجابة بلا عذر عاصيًا لله ورسوله والوجوب مذهب جمهور العلماء.
  • أن أمر النبي -صلى الله عليه وسلم- أمرٌ من الله -تعالى-، لأن الأمر بالإجابة لم يرد إلا في السنة.
  • استحباب دعوة الفقراء والمحتاجين، كما أن فيه الحث على أن تؤكل الوليمة ولا تترك لتضيع ويرمى بها في المزابل لما فيه من الإسراف والتبذير.
  • جواز قَرْنِ الرسول -صلى الله عليه وسلم- مع الله -تعالى- في الأحكام الشرعية دون الأحكام الكونية القدرية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید