حدیث

بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن عُمر بن أبي سلمة رضي الله عنه قال: كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ، سَمِّ اللهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ.

ترجمہ

عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں تھا۔ (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔“ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زیر تربیت اور کفالت میں تھے، بتا رہے ہیں کہ ان کا ہاتھ کھانا کھانے کے دوران کھانا اٹھانے کے لیے برتن کے چاروں جانب گھومتا رہتا تھا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو کھانا کھانے کے تین آداب سکھائے : 1- کھانا کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا۔ 2- دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا۔ 3- برتن میں سے اپنے سامنے والے حصے سے کھانا کھانا۔

فوائد

  • کھانے پینے کا ایک ادب یہ ہے کہ شروع میں بسم اللہ کہا جائے۔
  • بچوں کو آداب سکھانا چاہیے۔ خاص طور سے ان بچوں کو جو آپ کے زیر کفالت ہوں۔
  • بچوں کو تعلیم دینے اور ادب سکھانے کے معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نرمی اور کشادہ دلی۔
  • کھانے کا ایک ادب یہ ہے کہ انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ ہاں! اگر پلیٹ میں کھانے کی الگ الگ طرح کی چیزیں موجود ہوں، تو اس کے لئے ان چیزوں کا (برتن کے کسى بھى حصے سے) لینا جائز ہے۔
  • صحابہ كرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے آداب پر پابندی سے عمل کرتے تھے۔ ایسا عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے : "چنانچہ اس کے بعد ہمیشہ میں آپ کے بتائے ہوئے اسی طریقے کے مطابق کھانا کھاتا رہا"۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ عُمَرُ بن أبي سلمة رضي الله عنهما، ابن زوجة النبي صلى الله عليه وسلم أم سلمة رضي الله عنها، -وكان تحت تربيتِه ورعايته-، أنه كان أثناء الأكل يَنْقُلُ يدَه في جوانب الإناء ليلتقط الطعام، فعلَّمه النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة آداب من آداب الأكل: أولها: قول "بسم الله" في بداية الأكل. وثانيها: الأكل باليمين. وثالثها: الأكل من الجانب الذي يَقْرُبُ منه من الطعام.

  • من آداب الأكل والشرب التسميةُ في أوله.
  • تعليم الصبيان الآداب، لاسيَّما من كان تحت كفالة الإنسان.
  • رفق النبي صلى الله عليه وسلم، وسعة صدره في تعليم الصغار وتأديبهم.
  • من آداب الطعام الأكل مما يلي الإنسان، إلا إذا كان أصنافًا متعددة فله أن يأخذ منها.
  • التزام الصحابة بما أدَّبهم به النبي صلى الله عليه وسلم، وذلك مستفاد من قول عمر: فما زالت تلك طعمتي بعد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید