ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «البَرَكة تنْزِلُ وَسَطَ الطَّعام، فَكُلُوا مِن حافَّتَيْه، ولا تأكلوا مِنْ وَسَطِه».
ترجمہ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”برکت، کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کنارے سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“۔
تشریح
اس حدیث میں کسی بڑے برتن ('قصعۃ' دس افراد کے کھانے کے بڑےبرتن کو کہتے ہیں) یا کھانے کے بڑے قاب وغیرہ میں اجتماعی طور پر بیٹھ کر کھانے کے آداب میں سے ایک اہم ادب کی جانب رہنمائی کی گئی ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے برتن کے اطراف و اکناف سے کھانے کی ہدایت فرمائی اور برتن کے بیچ سے کھانے سے منع فرمایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کھانے کے بیچ میں برکت اور خیر نازل ہوتا ہے اور کھانے کی برکت یہ ہے کہ کھانا، مقدار میں کم ہونے کے باوجود سب کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اور کچھ برکت اور خیر کے پہلو یہ بھی ہیں کہ کھانے میں پسندیدگی و شکم سیری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر کچھ کھانا باقی رہ بھی جائے تو کسی کا ہاتھ نہ لگنے کے سبب، وہ حصہ صاف ستھرا رہے گا اور کھانے سے فارغ ہوجانے والوں کے بعد دیگر آنے والےافراد بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، اگر کھانے کے بیچ سے کھانا شروع کیا جائے تو سارے کھانے کی حالت ابتر ہوجائے گی اور وہ بعد میں آنے والوں کے کھانے لائق نہ رہے گا اور نتیجہ میں کوڑے دان کی نذر ہوگا، چاہے وہ وافر مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔
تشریح: العربية
هذا الحديث يبين أدبًا من آداب الطعام حال الاجتماع على قصعة أو صحن ونحو ذلك، حيث أمر فيه النبي صلى الله عليه وسلم بالأكل من جوانب الإناء، وأن لا يؤكل من وسطه؛ لأنَّ بركة الله وخيره على هذا الطعام تنزل في وسطه، ومن بركة الطعام: أن يكون الطعام قليلًا فيكفي الكثير، ومنها: استمراء الطعام، ومنها: أنَّه إذا بقي بقية من الطعام، فإنَّها تبقى نظيفة لم تمسها يد، فيستفيد منها من يأتي بعد الآكلين، أما البدء من الوسط: فإنَّه يُفسد الطعام ويقذره على من بعده، فيُلقى، ولو كان كثيرًا.
- مشروعية الأكل من جوانب الطعام قبل وسطه, وكراهة البداءة من وسطه أو أعلاه.
- أن للأكل والشرب -وإن كانا من مقتضيات الجبلة والفطرة الإنسانية- آدابا وسننا جاءت بها الشريعة الإسلامية, فلا بد للإنسان أن يراعيها عند أكله وشربه.
- أنه ينبغي استجلاب البركة واستبقاؤها, وأنه لا ينبغي فعل ما يزيلها.