ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنْ يُتَنَفَّسَ في الإناء، أو يُنْفَخَ فيه».
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح
اس حدیث میں کھانے اور پینے کے آداب میں سے ایک ادب کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے جس میں سے کھایا یا پیا جاتا ہے۔ برتن میں سانس لینے سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کئی نقصانات پائے جاتے ہیں جیسے سانس چھوڑ کر پینے والے کے بعد (دوسرے) پینے والے کے لیے وہ برتن اور اس کا مشروب مکدر ہو جاتا ہے جیسے کوئی شخص بیک وقت سانس لیتا ہے اور پیتا بھی ہے تو اکثر اوقات اس کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت ہوتی ہے، لہذا سنت سے ثابت ہے کہ برتن کے باہر تین سانس لیتے ہوئے پانی پینے میں، بہت زیادہ حفاظت، بہت خوشگواری اور بہت زیادہ لطف اندوزی کا باعث ہوتا ہے۔ نیز کھانےاور پینے میں پائی جانے والی گرمی کے سبب یا اس میں پائی جانے والی کسی چیز کو دور کرنے کے لئے پھونک مارنے کی ممانعت بھی اس حدیث میں موجود ہے۔ یہ اس لیے کہ کھانے اور پینے کی اشیاء کا تحفظ کیا جائےتاکہ تھوک یا پانی سے متعلق کسی بدبو کے اثر سے وہ مکدر نہ ہونے پائے۔
تشریح: العربية
هذا الحديث فيه بيان أدب من آداب الأكل والشرب، وهو النهي عن التنفس والنفخ في الإناء الذي يؤكل أو يشرب منه، فأما النهي عن التنفس في الإناء فلما في ذلك من المضار: كتقذير الإناء؛ والشراب على الشارب، بعد المتنفس، كما أنَّه يتنفس ويشرب في آنٍ واحد، فربَّما سبَّب له الاختناق، فالشرب -كما جاء في السنة- من ثلاثة أنفاس خارج الإناء أمرأُ، وألذُّ، وأهنأُ، وفي هذا الحديث أيضا النهي عن النفخ في الطعام والشراب لأي سبب كسخونة، أو لإزالة شيء؛ وذلك حمايةً للطعام والشراب؛ لئلا يتقذر به من البزاق، أو أثر رائحة كريهة تعلق بالماء.
- النَّهي عن التنفس في الإناء؛ لما في ذلك من المضار والمفاسد, والسنة التنفس خارج الإناء.
- النهي عن النفخ في الطعام والشراب؛ لئلا يتقذر به من البزاق أو أثر رائحة كريهة تعلق بالماء.
- أن السنة لمن أراد أن يتنفس أثناء شربه أن يفصل الإناء عن فمه, بحيث يتنفس خارجه.
- أن الشريعة شاملة كاملة, ضبطت جميع التصرفات والأفعال بالأحكام والآداب المناسبة.