حدیث

رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اوریہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يُحَرِّمُ من الرَّضَاعَةِ إلا ما فَتَقَ الْأَمْعَاءَ في الثَّدْيِ، وكان قَبْلَ الْفِطَامِ».

ترجمہ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ (دوودھ) انتڑیوں کوپھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“۔

تشریح

حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔

تشریح: العربية

الحديث يدل على أنه لا يحرِّم من الرِّضاع إلاَّ ما وصل إلى الأمعاء ووسَّعها، أما القليل الذي لم ينفذ إليها ويفتقها ويوسعها -فلا يحرِّم، فكان الرضاع المؤثر في حال الصغر قبل الفطام.

  • أن الرضاع الذي ينشر الحرمة هو ما تغذَّى به الجسم، واستفاد منه، وهو ما كان في زمن الصغر، وهو وقت الرضاعة.
  • حسن بيان الرسول -صلى الله عليه وسلم- حيث يأتي كلامه واضحاً بيناً وهو أفصح الخلق -صلى الله عليه وسلم-.
  • أنّ الرّضعة الواحدة لا تحرّم؛ لأنّها لا تغني من جوع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید