حدیث

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ أخاه فَلْيَجْتَنِب الوجْهَ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔

تشریح: العربية

معنى الحديث أنه إذا ضرب أحدكم شخصاً تأديباً أو تعزيراً له أو في حد من حدود الله تعالى أو لخصومة أو غير ذلك فليحذر أن يضربه على وجهه، وليبتعد عن ذلك كل البعد، ولو في إقامة حد من حدود الله؛ لما لوجه بني آدم من الكرامة، فهو أشرف الأعضاء، وهو الَّذي تحصل به المواجهة، وضربه عليه إمَّا أن يتلف منه عضوًا، وإمَّا أنْ يُحْدِثَ فيه شَيْئًا؛ فالواجب اجتنابه، ويحرم الضرب فيه، سواء أكان الضرب بحقٍّ، أو عن طريق الاعتداء.

  • وجوب اتقاء الوجه عند الضرب في أي حال من الأحوال.
  • أنَّ إقامة الحدود لا يقصد بها إهانة المسلم، ولا يقصد إتلافه وقتله، وإنما يراد بها تطهيره من الذنب الذي وقع منه، كما يقصد بها ردعه عن أن يعود إليه، ولينزجر من تسوَّل له نفسه أن يعمل عمله.
  • مشروعية الضرب وجوازه إذا وجد سببه، وهو عقوبة مشروعة.
  • اجتناب الضرب في المواضع التي فيها خطورة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید