حدیث

رسول اللہ ﷺ نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف (جو خریدار ہوتا) پھینکتا اور اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹے پلٹے یا اس کی طرف دیکھے اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بیع ملامسۃ سے بھی منع فرمایا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ (خریدنے والا) کپڑے کو بغیر دیکھے صرف اسے چھو دیتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الْمُنَابَذَةِ-وهي طرح الرجل ثوبه بالبيع إلى الرجل قبل أن يقلبه، أو ينظر إليه-، ونهى عن الْمُلَامَسَةِ -والملامسة: لمس الرجل الثوب ولا ينظر إليه-».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف (جو خریدار ہوتا) پھینکتا اور اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹے پلٹے یا اس کی طرف دیکھے (صرف پھینک دینے کی وجہ سے وہ بیع لازم سمجھی جاتی تھی) اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بیع ملامسۃ سے بھی منع فرمایا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ (خریدنے والا) کپڑے کو بغیر دیکھے صرف اسے چھو دیتا (اور اسی سے بیع لازم ہو جاتی تھی)۔

تشریح

نبی ﷺ نے بیع غرر (دھوکے کی بیع) سے منع فرمایا کیونکہ اس سے دونوں فریقین عقد میں سے کسی ایک کو نقصان ہوتا ہے بایں طور کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا ہو جاتا ہے۔جیسے اگر سامان تجارت فروخت کنندہ یا خریدار یا دونوں کے لئے مجہول ہو۔ اس کی ایک صورت بیعِ منابذہ بھی ہے بایں طور کہ فروخت کنندہ مثلا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینک دے یعنی اسے دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلے ہی وہ اس کی بیع پکی کر لیں۔اس کی ایک مثال بیعِ ملامسہ بھی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ خریدار وفروخت کنندہ کے مابین کپڑے کو دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلےمحض اسے چھو لینے سے عقد بیع ہو جائے۔ یہ دونوں عقد، معقود علیہ کے سلسلے میں جہالت اور دھوکہ دہی کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ دونوں فریقین میں سے ایک خطرے میں ہوتا ہے، یا تو وہ فائدے میں رہتا ہے یا پھر نقصان اٹھاتا ہےاور اپنے اس عمل کی وجہ سے بائع اور مشتری جوے بازی کے حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جو کہ ممنوع ہے۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الغَرَر، لما يحصل فيه من مضرة لأحد المتعاقدين، بأن يغبن في بيعه أو شرائه. وذلك كأن يكون المبيع مجهولا للبائع، أو للمشتري، أو لهما جميعاً. ومنه بيع المنابذة، بحيث يطرح البائع الثوب -مثلاً- على المشتري يعقدان البيع قبل النظر إليه أو تقليبه. و مثله بيع الملامسة، كأن يجعلا العقد على لمس الثوب، مثلا، قبل النظر إليه أو تقليبه. وهذان العقدان يفضيان إلى الجهل والغرر في المعقود عليه. فأحد العاقدين تحت الخطر إما غانما أو غارماً، فيدخلان في (باب الميسر) المنهي عنه.

  • النهي عن بيع الملامسة والمنابذة.
  • البيع الغائب يصح بيعه إذا كان الوصف يحيط به وإذا وصف وصفاً تنتفي معه جهالته.
  • أًن هذين البيعين غير صحيحين، لأن النهي يقتضي الفساد.
  • استدل بذلك على عدم صحة شراء المجهول.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید