حدیث

رسول الله ﷺ نے پھلوں کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ دریافت کیا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: پھلوں کا (پک کر) سرخ ہونا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بتاؤ کہ اگر اللہ (کسی وجہ سے) پھل نہ لگائے تو تمہارے لیے اپنے بھائی کا مال کیسے حلال ہوجائے گا؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تُزْهِي. قيل: وما تُزْهِي؟ قال: حتى تَحمَرَّ. قال: أرأيت إن مَنَعَ اللهُ الثمرة، بِمَ يستحِلُّ أحدُكُم مال أخيه؟».

ترجمہ

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے پھلوں کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ دریافت کیا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: پھلوں کا (پک کر) سرخ ہوجانا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بتاؤ اگر اللہ (کسی وجہ سے) پھل نہ لگائے تو تمہارے لیے اپنے بھائی کا مال (بلا عوض لینا) کیسے حلال ہوجائے گا؟

تشریح

پکنا شروع ہونے سے پہلے پھلوں پر بہت سی بیماریوں کے آنے کا اندیشہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت ان کے بیچنے میں خریدار کا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فروخت کنندہ اور خریدار کو پھلوں کے 'زہو' سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھلوں کی پختگی ظاہر ہوجائے۔ کھجور کے معاملے میں اس کی نشانی اس کا سرخ یا زرد ہوجانا ہے۔ نبی ﷺ نے اس قسم کی خرید و فروخت کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان پھلوں پر کوئی آفت آ جائے یا ان کا کچھ حصہ بیماری کی زد میں آ جائے تو پھر تم یعنی فروخت کنندہ کے لیے یہ کیسے روا ہو گا کہ وہ اپنے خریدار بھائی کا مال لے لے؟۔ تم کسی ایسے بدل کے بغیر کیسے اس کا مال لے سکتے ہو جس سے اس کو کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں؟۔

تشریح: العربية

كانت الثمار مُعَرضة لكثير من الآفات قبل بُدُو صلاحها، وليس في بيعها مصلحة للمشتري في ذلك الوقت. فنهى النبي صلى الله عليه وسلم البائع والمشتري عن بيعها حتى تزهي، وذلك بُدُو الصلاح، الذي دليله في تمر النخل الاحمرار أو الاصفرار. ثم علل الشارع المنع من تبايعها، بأنه لو أتت عليها آفة، أو على بعضها، فبماذا يحل لك- أيها البائع- مال أخيك المشترى، كيف تأخذه بلا عوض ينتفع به؟

  • النهي عن بيع الثمار قبل بدو صلاحها.
  • وضع الجوائح في الثمر الذي يشترى بعد بدو صلاحه ثم تصيبه جائحة، ومعنى وضع الجوائح رد البيع إذا نزلت مصيبة قدرية بالزرع أو الشجر فأتلفته.
  • فيه تحريم أكل أموال الناس بغير حق، ولو بما فيه صورة رضا من الطرفين.
  • تفسير بدو الصلاح المشترط لبيع الثمار بالإزهاء.
  • الاكتفاء بمسمى الإزهاء وابتدائه من غير اشتراط تكامله لأنه جعل مسمى الإزهاء غاية للنهي وبأوله يحصل المسمى.
  • أن زهو بعض الثمرة كاف في جواز البيع من حيث إنه ينطبق عليها أنها أزهت بإزهاء بعضها مع حصول المعنى وهو الأمن من العاهة غالبا، أما بعض النخيل الذي يبقى أخضر لكنه يُتْمِر فهذا يكتفى فيه بطيب الطعم ، ولا حاجة إلى اللون.
  • أنه إذا باعها قبل الإزهاء فأصابتها عاهة فهي من مال البائع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید