ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر- رضي الله عنهما- مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الوَلاءِ وعن هِبَتِهِ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح
’وَلاء‘ نسب کے رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خرید و فروخت، ہبہ وغیرہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس میں خرید و فروخت وغیرہ کے ذریعے تصرف کرنا جائز نہیں۔یہ آزاد کرنے والے اور آزاد کردہ شخص کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق ہے۔ اس کی وجہ سے پہلا شحض دوسرے کا وارث بنتا ہے۔ اس کی خرید و فروخت اور ہبہ سے ممانعت اس لیے ہے کہ نسب کی طرح اسے ختم کرنے سے یہ ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایک انسان اپنے سے بھائی کا نسب بیچے تو اس کا بیچنا درست نہیں یا اگر کوئی اپنے بچے سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیچنا بھی درست نہیں یا اگر کوئی اپنے چچازاد بھائی سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیع بھی درست نہیں، اس لیے کہ نسب کا بیچنا درست نہیں، اسی طرح ’ولاء‘ کا بیچنا بھی درست نہیں۔
تشریح: العربية
الوَلاء لحمَة كلحمَةِ النسب، من حيث إن كلا منهما لا يكتسب ببيع ولا هبة ولا غير هما، لهذا لا يجوز التصرف فيه ببيع ولا غيره. وإنما هو صلة ورابطة بين المعتق والعتيق يحصل بها إرث الأول من الثاني، والنهي عن بيعه وهبته لكونه كالنسب الذي لا يزول بالإزالة. فلو أن إنساناً باع نسبه من أخيه ما يصلح البيع، أو باع نسبه من ولده لم يصح البيع، أو باع نسبه من ابن عمه لا يصح البيع، النسب لا يباع، وهكذا الولاء.
- النهي عن بيع الولاء، وعن هبته، وعن غيرهما من أنواع التمليكات.
- قال ابن دقيق العيد: الولاء حق ثبت بوصف، وهو الإعتاق، فلا يقبل النقل إلى الغير بوجه من الوجوه، لأن ما ثبت بوصف يدوم بدوامه، ولا يستحقه إلا من قام به ذلك الوصف.
- أن العقد باطل لأن النَّهي يقتضي الفساد.
- أن هذه العلاقة الباقية التي لا تنفصم، كما لا تنفصم علاقة النسب، ويرث المعتق من أعتقه، وكذلك عصبته المتعصبون بأنفسهم، لنعمة العتق عليه.