حدیث

رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حَبَلِ الحَبَلَةِ ،وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية، وكان الرجل يبتاع الجَزُورَ إلى أن تُنتِجَ الناقة، ثم تُنتِج التي في بطنها. قيل: إنه كان يبيع الشارف -وهي الكبيرة المسنة- بنتاج الجنين الذي في بطن ناقته.

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی بیچتا تھا اور وہ بڑی عمر کی ہوتی، اس بچے کے جنم کی شرط پر، جو اس کی اونٹنی کے پیٹ میں ہے۔

تشریح

یہ بیع ان بیوع میں سے ہے، جو حرام ہیں۔ اس کی مشہور دو تفسیریں ہیں: 1- اس کا معنیٰ تعلیق ہے، یعنی کوئی چیز اس طرح ادھار پر بیچنا کہ جانور کے پیٹ میں موجود بچے کی ولادت، پھر اس کے بچے کی ولادت پر اس کی مدت ختم ہو۔ اس سے منع کیا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں قیمت مجہول ہے اور جس مدت کے ساتھ قیمت کو معلق کیاگیا ہے، وہ لمبی بھی ہوسکتی ہے اور مختصر بھی۔ 2- اس کے معنی معدوم اور مجہول چیز کو بیچنے کے ہیں۔ یعنی ایک سالہ جانور کے پیٹ میں موجود حمل سے پیدا ہونے والے بچے کو بیچنا۔ اس سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس میں بہت زیادہ ضرر اور غرر (غیریقینی صورتحال) ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ بچہ مادہ ہی ہوگا، ایک ہوگا یا دو، مردہ ہوگا یا زندہ اور کتنے عرصے میں پیدا ہوگا؟ یہ مجہول بیوع میں سے ہے، جس کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے اور جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔ یعنی مسئلے کی چار صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ جانور کے حمل کو بیچنا۔ دوسری یہ کہ جانور کے حمل کے حمل کو بیچنا۔ اس میں بیچی جانے والی چیز مجھول ہے۔ تیسری یہ کہ بیچی جانے والی چیز مؤجل ہو، یعنی جس مدت میں وہ چیز مشتری کی ملکیت ہوگی، وہ جانور کا بچہ ہونے یا اس کے بچے کا بچہ ہونے تک مؤخر ہو۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ مبیع غیر معلق (دستیاب) ہو ،لیکن قیمت مؤجل ہو جس کی مدت مجہول ہو۔

تشریح: العربية

هذا بيع من البيوع المحرمة، وأشهر تفاسير هذا البيع تفسيران: 1- أن يكون معناه التعليق، وذلك بأن يبيعه الشيء بثمن مؤجل بمدة تنتهي بولادة الناقة، ثم ولادة الذي في بطنها، ونُهيَ عنه لما فيه من جهالة أجل الثمن، والأجل له وقع في الثمن في طوله وقصره. 2- أن يكون معناه بيع المعدوم المجهول، وذلك بأن يبيعه نتاج الحمل الذي في بطن الناقة المسنة، ونُهي عنه لما فيه من الضرر الكبير والغرر، فلا يعلم: هل يكون أنثى، وهل هو واحد أو اثنان، وهل هو حي أو ميت؟ ومجهولة مدة حصوله- وهذه من البيعات المجهولة، التي يكثر ضررها وعذرها، فتفضي إلى المنازعات. بمعنى: صارت المسألة لها أربع صور: الأولى: أن يبيع حمل الناقة. الثانية: أن يبيع حمل حمل الناقة، وهذا يعود على جهالة المعقود عليه. الثالثة: أن يؤجل المبيع، أي يؤجل المدة التي يكون فيها الشيء ملكا للمشتري إلى أن تنتج الناقة أو تنتج التي في بطنها. الرابعة: أن يكون المبيع مؤبدا، لكن الثمن مؤجل بأجل مجهول.

  • النهى عن هذا البيع على كلا التفسيرين، لأنه إن كان على المعنى الأول، فَلِمَا فيه من جهالة الأجل وإن كان على المعنى الثاني، فَلِمَا فيه، من فقدان المبيع، وجهالته.
  • الرد على من قال: لا يقال لشيء من الحيوانات "حبلت" إلا الآدميات.
  • إذا وجدت معاملة في الجاهلية ولم ينكرها الشارع فهي جائزة، لأن سكوت الشرع عنها بدون إنكار يدل على إقرارها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید