حدیث

نبی ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا، اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا اور یہ کہ میوہ یاغلہ جو درخت پر لگا ہو، اسے دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما مرفوعاً: نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن المُخَابَرَةِ والمُحَاقَلَةِ، وعن المُزَابنة، وعن بيع الثَّمَرَة حتى يَبدُو صَلاحُها، وأن لا تبُاع إلا بالدينار والدرهم، إلا العَرَايَا.

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا، اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، اور یہ کہ میوہ یاغلہ جو درخت پر لگا ہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔

تشریح

نبی ﷺ نے خرید و فروخت کی کچھ انواع سے منع فرمایا، جن کا تعلق پھلوں کے ساتھ ہے۔ کیوںکہ اس سے ایک فریق کو یا دونوں فریق کو نقصان ہوتا ہے۔ ان صورتوں میں سے کچھ یہ ہیں: مخابرہ، اس کے معنی ہیں: زمین کو، اس کے کسی معین حصے کی پیداوار کے بدلے میں کرایے پر دینا نہ کہ اوسط کے حساب سے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بالیوں میں موجود گیہوں کی اس گیہوں کے بدلے میں بیع سے منع فرمایا ہے، جسے بھوسہ سے الگ کر لیا گیا ہو۔ اسی طرح آپ ﷺ نے درختوں پر لگی کھجور کو اس کے بقدر ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا اور پھل کے پختہ ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ تاہم آپ ﷺ نے بعدازاں تازہ کھجور کو بیچنے کی رخصت دے دی جب کہ اس کا تخمینہ لگاکر اس کی مقدار معلوم کر لی جائے اور اسے اسی کے برابر پھل کے ساتھ فروخت کیا جائے۔ ”الخرص“ کے معنی ہیں: پھل کی مقدار کو اندازے اور غالب گمان کے ذریعےجاننا بشرطےکہ یہ بیع پانچ یا پانچ وسق سے کم میں ہو۔ کیوںکہ دیگر احادیث میں ایسے ہی آیا ہے۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن أنواع من البيوع التي تتعلق بالثمار؛ لما فيها من الضرر على جانب واحد أو جانبين، ومن ذلك: المخابرة، وهي تأجير الأرض بنتاج جزء محدد من الأرض، وليس بنسبة عادلة، وكذلك نهى عن بيع الحنطة بسنبلها بحنطة صافية من التبن، وكذلك نهى أن يباع التمر على رؤوس النخل بتمر مثله، وعن أن تباع الثمرة حتى يبدو صلاحها، ولكنه رخص في الرطب فيها بعد أن يخرص ويعرف قدره بقدر ذلك من الثمر، -والخرص معرفة قدره بالتخمين وغلبة الظن-، بشرط أن يكون خمسة أوسق فأقل، لما ورد في أحاديث أخرى.

  • النهى عن المخابرة، والمحاقلة، والمزابنة.
  • استثنى من المزابنة، العرايا، للحاجة.
  • النهي عن هذه البيوع لما فيها من الجهل بتساوي العوضين، والجهل بذلك يفضي بنا إلى الربا.
  • من باب أولى يحرم البيع إذا علم التفاضل بين العوضين، الربويين من جنس واحد.
  • النهي عن بيع الثمر قبل بُدو صلاحه، لعدم أمن العاهة.
  • رخص النبي -صلى الله عليه وسلم- في بيع العرايا؛ لأن الفقير في موسم بيع الرطب ليس عنده مال يشتري به، فإذ كان عنده تمر وأراد أن يشتري الرطب يجوز ذلك بعد أن يقدَّر إذا كان أقل من خمسة أوسق كما في الحديث الآخر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید