حدیث

(تجارتی) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ( بلکہ ان کو منڈی میں آنے دیا کرو ) کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور نہ ہی (خریداری کی نیت کے بغیر)محض ریٹ بڑھانے کے لئے بولی لگاو اور کوئی شہری شخص (دلال بن کر) کسی دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے اور (بیچنے کے لیے) اونٹنیوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو.

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تَلَقَّوُا الرُّكبان، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، ولا تَنَاجَشُوا ولا يبع حَاضِرٌ لِبَادٍ، ولا تُصَرُّوا الإبلَ والغنم، ومن ابتاعها فهو بخير النَّظَرَين بعد أن يحلبها: إن رَضِيَهَا أمسكها، وإن سَخِطَها رَدَّهَا وَصَاعا ًمن تمر».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(تجارتی) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ( بلکہ ان کو منڈی میں آنے دیا کرو ) کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور نہ ہی (خریداری کی نیت کے بغیر)محض ریٹ بڑھانے کے لئے بولی لگاو اور کوئی شہری شخص (دلال بن کر) کسی دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے اور (بیچنے کے لیے) اونٹنیوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے(دھوکہ میں آکر ) کوئی ایسا جانور خریدلیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں یعنی چاہے تو جانور کو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدلے دے دے“۔

تشریح

نبی ﷺ بیع کی پانچ حرام صورتوں سےمنع فرما رہے ہیں کیونکہ ان سے فروخت کنندہ یا خریدار یا ان کے علاوہ کسی اور شخص کو نقصان ہوتا ہے: 1- جو لوگ اپنے سامان تجارت جیسے اشیائے خوردنی اور جانور بیچنے کے لئے آ رہے ہوں ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے خریداری کرنے سےمنع فرمایا کیونکہ ان کو ریٹ کا علم نہیں ہوتاہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ یہ شخص فروخت میں انہیں دھوکہ دے کر انہیں ان کے رزق سے محروم کر دے جس کے لئے انہوں نےاتنی مشقت اٹھائی ہوتی ہے۔ 2- اسی طرح نبی ﷺ نے کسی کی فروخت پر فروخت اور اسی طرح اس کی خریداری پر خریداری کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص خیارِ مجلس یا خیارِ شرط کے دوران خریدار کو یہ کہے کہ میں تمہیں اس سامان تجارت سے زیادہ عمدہ سامان اس سے کم قیمت پر دیتا ہوں یا پھر یہ دوسرا شخص اگر فروخت کنندہ ہو تو اس سے کہے کہ اس کی جو قیمت لگ چکی ہے میں اس سے زیادہ میں تم سے یہ خریدتا ہوں اور ایسا کرنےسے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ شخص بیع کو فسخ کرکے اس کے ساتھ عقد کر لے۔ اسی طرح دونوں قسم کی اختیار ختم ہو جانے کے بعد بھی آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ (فروخت کنندہ یا خریدارکو) اس طرح سے اکسانا باہمی بغض و عداوت اور نفرت کا سبب بنتا ہےاوراس سے اس آدمی کو اس کے رزق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ 3- آپ ﷺ نے بیعِ ”نجش“ سے منع فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ سامان تجارت کو خریدنے کی نیت کے بغیر ہی اس کا ریٹ بڑھا دیا جائے جس کا مقصود فروخت کنندہ کو زیادہ قیمت دلا کر اسے نفع پہنچانا یا پھر سامان تجارت کا بھاؤ بڑھا کر خریدار کو نقصان پہنچانا اور اسے اس کے خریدنے سےروکنا ہو۔ اس کی ممانعت اس لئے ہے کیونکہ اس میں خریداروں کے ساتھ کذب بیانی ہوتی ہے اور انہیں دھوکہ دیا جاتا ہے اور مکر فریب کے ذریعے سے سامان تجارت کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ 4- اسی طرح آپ ﷺ نے شہری شخص کو دیہاتی شخص کا سامان ِتجارت بیچنے سے منع فرمایا کیونکہ اس کو اس کے ریٹ کا پوری طرح سے علم ہوتا ہے اور وہ اس میں کوئی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں کہ خریدار فائدہ اٹھا سکیں۔ جب کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ ان میں سے کچھ کو کچھ کے ذریعے رزق پہنچاتا ہے“۔ 5- چوپایوں میں سے مُصَرّاۃ (یعنی ایسا جانور جسے بیچنے کے لئے اس کے دودھ کو کچھ عرصے کے لئے اس کے تھنوں میں ہی رہنے دیا جائے) کی بیع کرنے کی ممانعت جس سے خریدار کو یہ لگے کہ اتنا دودھ دینا اس جانور کا معمول ہے اور اس خیال سے وہ جانور کو زیادہ قیمت پر خرید لے حالانکہ وہ حقیقت میں اتنے کا نہ ہو۔ ایسا کرنے پر وہ شخص خریدار کو دھوکہ دینے اور اس پر ظلم کرنے کا مرتکب ہو گا۔ اسی لئے شارع علیہ السلام نے خریدار کے لئے اتنی مدت متعین کر دی جس میں وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا تدارک کر سکتا ہے جو کہ تین دن کا اختیار ہے چاہے وہ اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے یا پھر یہ پتہ لگنے کے بعد کہ وہ مصراۃ ہے، اسے فروخت کنندہ کو واپس کر دے۔ اگر اس نے دودھ دھو لیا ہو تو جانور کے ساتھ ساتھ اس دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور بھی دے دے۔

تشریح: العربية

ينهى النبي صلى الله عليه وسلم عن خمسة أنواع من البيع المحرم، لما فيها من الأضرار العائدة على البائع أو المشتري أو غيرهما. 1 - فنهى عن تلقي القادمين لبيع سلعهم من طعام وحيوان، فيقصدهم قبل أن يصلوا إلى السوق، فيشترى منهم، فلجهلهم بالسعر، ربما غبنهم في بيعهم، وحرمهم من باقي رزقهم الذي تعبوا فيه. 2- كما نهى أن يبيع أحد على بيع أحد، ومثله في الشراء على شرائه. وذلك بأن يقول في خيار المجلس أو الشرط: أعطيك أحسن من هذه السلعة أو بأرخص من هذا الثمن، إن كان مشتريا، أو أشتريها منك بأكثر من ثمنها، إن كان بائعا، ليفسخ البيع، ويعقد معه. وكذا بعد الخيارين، نهى عن ذلك، لما يسببه هذا التحريش من التشاحن والعداوة والبغضاء ؛ ولما فيه من قطع رزق صاحبه. 3- ثم نهى عن النجش، الذي هو الزيادة في السلعة لغير قصد الشراء، وإنما لنفع البائع بزيادة الثمن، أو ضرر المشتري بإغلاء السلعة عليه ونهى عنه، لما يترتب عليه من الكذب والتغرير بالمشترين، ورفع ثمن السلع عن طريق المكر والخداع. 4- وكذلك نهى أن يبيع الحاضر للبادي سلعته لأنه يكون محيطاً بسعرها ؛ فلا يبقى منه شيئاً ينتفع به المشترون. والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: "دعوا الناس، يرزق الله بعضهم من بعض" . 5- النهي عن بيع المصراة من بهيمة الأنعام، فيظن المشتري أن هذا عادة لها فيشتريها زائداً في ثمنها مالا تستحقه، فيكون قد غش المشتري وظلمه. فجعل الشارع له مدة يتدارك بها ظلامته ، وهي الخيار ثلاثة أيام له أن يمسكها، وله أن يردها على البائع بعد أن يعلم أنها مصراة. فإن كان قد حلب اللبن ردها ورد معها صاع تمر بدلا منه.

  • النهي عن تلقي القادمين، لبيع سلعتهم، والشراء منهم، قبل أن يصلوا إلى السوق.فالنهى يفيد التحريم.
  • الحكمة في النهي لئلا يُخْدَعوا، فيشترى منهم سلعهم بأقل من قيمتها بكثير.
  • تحريم البيع على بيع المسلم، وهو أن يقول لمن اشترى سلعة بعشرة : عندى مثلها بتسعة.ومحل التحريم في زمن خيار المجلس أو خيار الشرط، وكذلك بعد الخيارين لأن فيه ضررا أيضاً من تأسيف العاقد، مما يحمله على محاولة الفسخ، بانتحال بعض الأعذار، وغير ذلك من المفاسد.ومثل المسلم في ذلك، الذمي وإنما خرج مخرج الغالب.وقد قال ابن عبد البر: أجمع الفقهاء على أنه لا يجوز دخول المسلم على الذمي في سومه، إلا الأوزاعى وحده.ومثله الشراء على شرائه، كأن يقول لمن باع سلعته بتسعة: عندي فيها عشرة، ليفسخ العقد مع الأول، ويعقد معه.
  • مثل البيع في التحريم، خطبة النكاح على الخاطب قبله.وكذلك الوظائف والأعمال، كالمقاولات والإجارات، وغير ذلك من العقود لأن المعنى الموجود في البيع- وهو إثارة العداوة والبغضاء- موجود في الكل.
  • النهي عن بيع الحاضر للبادي وصفته أن يَقْدَم من يريد بيع سلعته من غير أهل البلد، فيتولى بيعها له أحد المقيمين في البلد.
  • الحكمة في النهى، إغلاء السلعة على المقيمين إذا باعها عليهم أحد منهم بخلاف ما إذا كانت مع القادم، فلجهله بالسعر، لا يستقصي جميع قيمتها، فيحصل بذلك سعة على المشترين.
  • قيد بعض العلماء التحريم بشروط، أهمها أن يَقْدَم البادي لبيع سلعته، وأن يكون جاهلا بسعر البلد، وأن يكون بالناس حاجة إليها.
  • النهى عن تصرية اللبن في ضروع بهيمة الأنعام عند البيع.
  • تحريم ذلك لما فيه من التدليس والتغرير بالمشترى، فهو من الكذب، وأكل أموال الناس بالباطل. وإن كان قد صرها لحاجته أو لغير قصد البيع فذلك جائز على ألا يضر بالحيوان، وإلا فحرام.
  • أن البيع صحيح لقوله: " إن رضيها أمسكها " ولكن له الخيار بين الإمساك والرد، إذا علم بالتصرية، سواء أعلمه قبل الحلب، أم بالحلب.
  • أن خياره يمتد ثلاثة أيام، منذ علم التصرية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید