حدیث

نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے، اور یہ کہکوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہکوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه : «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبيع حاضرٌ لباد، ولا تناجشوا. ولا يبَعِ ِالرجل على بيع أخيه، ولا يخطب على خطبته ، ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتِكْفَأَ ما في صَحفَتِهَا».

ترجمہ

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ لگائے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے۔ کوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائےکہ جو اس کے برتن میں ہے اُسے اپنے میں انڈیل لے (اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے)۔

تشریح

شریعت ہر اس چیز کو ختم کرنے پر زور دیتی ہے جو اسلامی معاشرے کے افراد کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ نص اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سامان کی قیمت بڑھانے سے منع فرمایا ہے، جس کے خریدنے کی نیتنہ ہو، بلکہ ارادہ قمیت بڑھا کر بیچنے والے کو فائدہ پہنـچانا ہو یا سامان مہنگا کرکے خریدار کو نقصان پہنچانا۔ آپ ﷺ نے اس سے اس لیے منع کیا کہ یہ جھوٹ، خریداروں کے حق میں دھوکہ اور مکر و فریب کے ذریعے سامان کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا سامان بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ شہری قیمت کنٹرول کر لیتا ہے۔ اسے گھٹنے نہیں دیتا، جو خریداروں کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دے گا“۔ جب سامان کا مالک سامان بیچتا ہے، تو خریدنے والوں کو کچھ آسانی فراہم ہو جاتی ہے۔ مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجنا حرام ہے۔ جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے پیغام بھیجنے والے کا پیغام نامنظور ہو گیا ہے۔ دوسرے کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجنے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ دشمنی، بغض اور رزق کو روکنے کا سبب ہے۔ عورت کا اپنے شوہر سے سوکن کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا، اسے اس کے خلاف بھڑکانا یا ان کے درمیاں فتنہ پیدا کرنا؛ تاکہ ان کے درمیان ناچاقی پیدا ہو اور شوہر بیوی کو الگ کر دے۔ یہ سب حرام ہے۔ اس لیے کہ یہ بڑے بڑے مفاسد پیدا کرتا ہے، جیسے دشمنی، کینہ، مطلقہ کا رزق ختم کرنا_جسے اس کے برتن کی خیر کو اپنے برتن میں انڈیل لینے سے تعبیرکیاگیا ہے_ یعنی وہ رزق جس کا سبب نکاح ہے۔ اس کے علاوہ یہ طرزِ عمل نفقہ، کپڑے وغیرہ اور دوسرے حقوقِ زوجیت کو بھی ختم کرنے کا سبب ہے۔

تشریح: العربية

يحرص الشرع الحنيف على إزالة كل ما يسبب العداوة والبغضاء بين أبناء المجتمع المسلم، ويظهر هذا جليًّا من خلال هذا النص، ففيه النهي عن الزيادة في السلعة لغير قصد الشراء، وإنما لنفع البائع بزيادة الثمن، أو ضرر المشتري بإغلاء السلعة عليه، ونهى عنه لما يترتب عليه من الكذب والتغرير بالمشترين، ورفع ثمن السلع عن طريق المكر والخداع. وكذلك نهى أن يبيع الحاضر للبادي سلعته لأنه يكون محيطًا بسعرها؛ فلا ينقص منه شيئًا ينتفع به المشترون. والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: "دعوا الناس، يرزق الله بعضهم من بعض"، وإذا باعها صاحبها بما يكفيه حصل فيها شيء من السعة على المشترين. تحريم خطبة النكاح على خطبة أخيه، حتى يعلم أن الخاطب رُد عن طلبه، ولم يُجَبْ، لما تسبب الخِطْبة على خِطبةْ الغير من العداوة والبغضاء، والتعرض لقطع الرزق. تحريم سؤال المرأة زوجها أن يطلق ضرتها، أو توغير صدره عليها، أو الفتنة بينهما، ليحصل بينهما الشر، فيفارقها، فهذا حرام، لما يحتوى عليه من المفاسد الكبيرة، من توريث العداوات، وجلب الإحن ، وقطع رزق المطلقة، الذي كنى عنه بِكَفْءِ ما في إنائها من الخير الذي سببه النكاح وما يوجبه من نفقة وكسوة وغيرها من الحقوق الزوجية.

  • الرد على من زعم أن الدين الإسلامي ينظم العبادة فقط، وهي: المعاملة مع الله -تعالى-، فإن الدِّين الإسلامي ينظم العبادة والمعاملة وكل شؤون الحياة، ولا غرابة فإن أطول آية في كتاب الله تعالى آية الدَّيْن وكلها في معاملة الخلق.
  • إثبات الأخوة في الدين، أما الأخوة الإنسانية فغير مقصودة شرعًا، وليس بين الناس أخوة إنسانية، لكن بينهم جنسية إنسانية، يعني: أن الكافر من جنس المسلم في الإنسانية، لكن ليس أخاه، ألم تروا إلى نوح قال:" رب إن ابني من أهلي وإن وعدك الحق وأنت أحكم الحاكمين. قال يا نوح إنه ليس من أهلك"(هود: 45-46)، والأخوة نوعان: الأول: أخوة في الدين الثاني: أخوة في النسب.
  • عدم جواز بيع الحاضر للبادي ، والنجش، وبيع الرجل على بيع أخيه.
  • تحريم خطبة الرجل على خطبة أخيه حتى يأذن أو يترك.
  • تحريم سؤال المرأة الرجل أن يطلق ضرتها وهي زوجته الأخرى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید