حدیث

اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعًا: «الراكب شيطان، والراكبان شيطانان، والثلاثة رَكْب».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اکیلا سوار ایک شیطان ہے ، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تب قافلہ بنتا ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں اکیلے ایک شخص کو اور دو اشخاص کو سفر پر جانے سے ڈرایا گیا ہے ۔ تاہم اس کا تعلق اس سفر سے ہے جہاں کسی کا گزر نہ ہو۔ اس حدیث میں کسی کے ساتھ یا پھر گروہ کی شکل میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ انسان شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے۔ جہاں تک تنہا سفر نہ کرنے کی بات ہے تو یہ جگ ظاہر ہے، بوقتِ ضرورت انسان کو دوسرے کی مدد در پیش ہوتی ہے، یا ہوسکتا ہے کہ راستے ہی میں اس کا انتقال ہوجائے (اور وہ بے یارومددگار ہوجائے) نیز تاکہ وہ شیطان کی چالبازی کا شکار نہ ہوجائے۔ جہاں تک صرف دو لوگوں کے سفر پر نکلنے کی ممانعت ہے تو اس میں علت یہ ہوسکتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اُن میں سے کوئی راستے میں کام آجائے (یا بیمار ہوجائے) تو دوسرا شخص تنہا ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں کسی (شخص کا تنہا) موٹر کار میں سفر کرنا ایسے راستوں (روٹس) پر جو چالو ہو (بیابان نہ ہو) تو وہ تنہا سفر کرنے کی ممانعت میں شامل نہیں نہ ہی اُس اکیلے سوار مسافر کو شیطان کہا جائے گا، اس لیے کہ اپنی اپنی گاڑیوں میں سفر کرنے والے گویا قافلے کی شکل میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر جیسے مکہ اور ریاض یا مکہ اور جدہ کے مابین کے راستے ہیں، تاہم ایسے راستے جو غیر آباد (چالو نہ) ہوں، اُن پر گاڑی میں بھی سفر کرنا اکیلے سفر کرنے کی ممانعت کے ضمن میں آئے گا اور وہ سوار اِس حدیث کے حکم میں داخل ہوگا۔

تشریح: العربية

في الحديث التنفير من سفر الواحد، وكذلك من سفر الاثنين، وهذا في الأماكن الخالية التي لا يمر عليها أحدٌ، والترغيب في السفر في صُحْبة وجماعة، أما الواحد فظاهر، وذلك حتى يجد من يساعده إذا احتاج أو إذا مات وحتى لا يصيبه كَيْدُ الشَّيْطانِ، وأما الاثنين فربما أصاب أحدهما شيء فيبقى الآخر منفردًا، وأما في زماننا فالسفر بالسيارة ونحوها في الطرق السريعة المأهولة بالمسافرين فلا يعد السفر فيها وحدة ولا يكون الراكب شيطانًا؛ لأنَّ هؤلاء المسافرين كالقافلة، مثل الطريق بين مكة والرياض أو مكة وجدة، ولكن في الطرق المنقطعة غير المعمورة بالمسافرين يعد وحدة ويكون داخلًا في هذا الحديث.

  • الحث على السفر في جماعة وصحبة، والتنفير من سفر الواحد أو الاثنين؛ لأن الاثنين ربما أصاب أحدهما شيء فيبقى الآخر منفردًا.
  • الشيطان يَبْعُد عن الجماعة؛ لتعاونهم وتذكير بعضهم لبعض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید