حدیث

بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ثَعْلَبَة الخُشَني رضي الله عنه قال: كان الناس إذا نزلوا منزلًا تفرقوا في الشِّعابِ والأَوْدِيَةِ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن تَفَرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأَوْدِية إنما ذلكم من الشيطان». فلم ينزلوا بعد ذلك منزلاً إلا انضم بعضهم إلى بعض.

ترجمہ

ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“۔ اس کے بعد جب بھی پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے سے مل جل کر اکٹھے رہتے۔

تشریح

لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔

تشریح: العربية

كان الناس إذا نزلوا مكانا أثناء السفر تفرقوا في الشعاب والأودية، فأخبرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن تفرقهم هذا من الشيطان؛ ليخوف أولياء الله ويحرك أعداءه، فلم ينزلوا بعد ذلك في مكان إلا انضم بعضهم إلى بعض، حتى لو بُسط عليهم كساء لوسعهم من شدة تقاربهم.

  • كراهية الانفراد في المنزل في السفر.
  • استحباب الاجتماع في السفر لحصول التعاون والأنس.
  • أن الفرقة من الشيطان.
  • سرعة استجابة الصحابة لأمر النبي -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید