حدیث

اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنه أراد أن يغزو، فقال: «يا معشر المهاجرين والأنصار، إن من إخوانكم قومًا ليس لهم مال، ولا عشيرة، فلْيَضُمَّ أحدكم إليه الرَّجُلَيْنِ أو الثلاثة، فما لأحدنا مِن ظَهْر يَحْمِلُه إلا عُقْبَة كعُقْبَة». يعني: أحدهم، قال: فضَمَمْتُ إليَّ اثنين أو ثلاثة ما لي إلا عُقْبَة كعُقْبَة أحدهم من جَمَلي.

ترجمہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہم باری باری سوار ہوں“۔ تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔

تشریح

مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا کہ دو یا تین لوگ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوں، تاکہ تمام لوگوں کو یکساں سواری کا موقع ملے۔

تشریح: العربية

المعنى: أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أصحابه رضي الله عنهم أن يَتَنَاوَب الرجلان والثلاثة على البعير الواحد حتى يكون الناس كلهم سواء.

  • الحث على المساعدة في فعل الخير كالجهاد وغيره.
  • استجابة الصحابة -رضي الله عنهم- لتعليمات النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • إعانة الرفيق في السفر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید