ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فكنا إذا أشْرَفْنَا على واد هَلَّلْنَا وكبَّرْنَا وارتفعت أصواتنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «يا أيها الناس، ارْبَعُوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصمَّ ولا غائباً، إنَّه معكم، إنَّه سميع قريب».
ترجمہ
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو ”لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر“ کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے، بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے“۔
تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ وہ بہ آواز بلند تہلیل وتکبیر کر رہے تھے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”أيها الناس اربعوا على أنفسكم“ یعنی اپنے آپ پر کچھ نرمی برتو اور آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو۔ تم کسی ایسی ذات کو تو پکار نہیں رہے ہو جو بہری اور غیر موجود ہو بلکہ تم تو ایک سمیع و مجیب اور قریب ذات کو پکار رہے ہو یعنی اللہ عزّ وجلّ کو جسے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تم تسبیح و تحمید اور تکبیر کہتے ہوئے آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالو۔ کیونکہ اللہ سنتا بھی اور دیکھتا بھی اور وہ قریب بھی ہے اگرچہ وہ آسمانوں سے اوپر ہے تاہم وہ ہر شے کو محیط ہے۔ عزوجل۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تدعون سميعاً بصيراً قريباً“ یہ اللہ تعالی کے لیے مبالغے کے صیغے ہیں کیونکہ اللہ تعالی میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں چنانچہ کوئی بھی جنبش چاہے وہ کتنی بھی مخفی ہو اس کی سماعت سے نہیں چوکتی۔ وہ رات کے اندھیرے میں چکنے سخت پتھر پر چلتی ہوئی چیونٹی کے رینگنے کی آواز کو بھی سنتا ہے بلکہ اس سے بھی مخفی آوازوں کو سنتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی آنکھوں کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری سُروں اور تہمارے سانس کی آوازوں اور ہر ان کلمات کو سنتا ہے جو تم بولتے ہو اور تمہاری حرکات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے پکارنے والے کے قریب ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوق سے آگاہ ہے اور ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے عرش پر ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے بالاتر ہے۔ اپنی تمام مخلوقات میں سے اس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ سمع و بصر اور قرب اللہ کی صفات ہیں جو اس کے لیے بلا تکییف و تمثیل اور بلا تحریف و تاویل اس انداز میں ثابت ہیں جو اس کی ذات کے شایانِ شان ہے۔
تشریح: العربية
حديث أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أنهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فكانوا يهللون ويكبرون ويرفعون أصواتهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "أيها الناس اربعوا على أنفسكم" -يعني: هونوا عليها، ولا تشقوا على أنفسكم في رفع الصوت؟- "فإنكم لا تدعو أصم ولا غائباً"، إنما تدعون سميعاً مجيباً قريباً"، وهو الله عز وجل لا يحتاج أن تجهدوا أنفسكم في رفع الصوت عند التسبيح والتحميد والتكبير؛ لأن الله تعالى يسمع ويبصر وهو قريب جل وعلا، مع أنه فوق السماوات لكنه محيط بكل شيء جل وعلا . قوله: "تدعون سميعاً بصيراً قريباً"، وهذه صيغ مبالغة لله؛ لأن له تعالى تمام الكمال من هذه الصفات، فلا يفوت سمعه أي حركة وإن خفيت، فيسمع دبيب النملة على الصفاة الصماء في ظلمة الليل، وأخفى من ذلك، كما أنه تعالى لا يحجب بصره شيء من الحوائل، فهو يسمع نغماتكم وأصوات أنفاسكم وجميع ما تتلفظون به من كلمات، ويبصر حركاتكم، وهو معكم قريب من داعيه، وهو أيضاً مع جميع خلقه باطلاعه وإحاطته، وهم في قبضته، ومع ذلك هو على عرشه عال فوق جميع مخلوقاته، ولا يخفى عليه خافية في جميع مخلوقاته مهما كانت. والسمع والبصر والقرب صفات ثابتة لله عز وجل على الوجه اللائق به، من غير تكييف ولا تمثيل ولا تحريف ولا تأويل.
- كراهية رفع الصوت بالذكر والدعاء.
- إثبات السمع والبصر والقرب لله تعالى بلا تحريف ولا تمثيل، ولا تكييف ولا تعطيل.
- تفسير معية الله، وأنها معية علم بكافة الخلق، ورعاية وقرب للمؤمنين.
- إشفاق النبي -صلى الله عليه وسلم- على أصحابه.