ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ {الم} حَرْفٌ، وَلَكِنْ {أَلِفٌ} حَرْفٌ، وَ{لَامٌ} حَرْفٌ، وَ{مِيمٌ} حَرْفٌ».
ترجمہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھتا ہے، تو اس کے بدلے میں اسے ایک نیکی ملتی ہے اور اس کے لیے ثواب کو دس گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔" اس طرح تین حرف ہوئے، جن کو پڑھنے پر تیس نیکیاں ملیں گی۔
فوائد
- زیادہ سے زیادہ قرآن تلاوت کرنے کی ترغیب۔
- قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے، جسے دس گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
- اللہ کا وسیع رحم و کرم کہ وہ اپنے فضل و کرم کے نتیجے میں بندوں کو اجر و ثواب بڑھا کر دیتا ہے۔
- دوسرے کلام پر قرآن کی فضیلت اور اس کی تلاوت کا عبادت ہونا۔ ایسا اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
تشریح: العربية
أَخْبرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ كلَّ مسلمٍ يقرأ حرفًا من كتاب اللّه فله به حسنة، ويُضاعَفُ له الأجرُ إلى عشَرةِ أمثالِه. ثم بَيَّنَ ذلك بقوله: (لا أقول "ألم" حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف): فتكون ثلاثة فيها ثلاثون حسنة.
- الحث على الإكثار من تلاوة القرآن.
- للقارئ بكل حرف من كل كلمة يتلوها حسنة مضاعفة بعشر أمثالها.
- سعة رحمة الله وكرمه حيث ضاعف للعباد الأجر فضلًا منه وكرمًا.
- فضل القرآن على غيره من الكلام، والتعبد بتلاوته؛ وذلك بأنه كلام الله تعالى.