حدیث

جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي لبابة بشير بن عبد المنذر رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَن لَم يَتَغنَّ بِالقُرآنِ فَليسَ مِنَّا».

ترجمہ

ابو لبابہ بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے اس حدیث میں قرآن کو سریلی آواز میں پڑھنے کی ترغیب دی۔ اس لفظ (تغنی بالقرآن)کے دو معانی ہیں: پہلا معنی یہ کہ جو شخص اسے سریلی آواز میں نہیں پڑھتا یعنی قرآن کو اچھی آواز میں نہیں پڑھتا وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقہ کار پر کاربند نہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر تکیہ کرتے ہوئے دوسری ہر شے سے مستغنی نہیں ہو جاتا بایں طور کہ کسی اور شے سے بھی ہدایت چاہتا ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور شے سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ شے گمراہ کر دیتی ہے، العیاذ باللہ۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی آواز میں قرآن پڑھے اور اس کی موجودگی میں دیگر تمام اشیاء سے بے نیاز ہو جائے۔

تشریح: العربية

حث النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث على التغني بالقرآن، وهذه الكلمة لها معنيان؛ الأول: من لم يتغن به، أي: من لم يحسن صوته بالقرآن فليس من أهل هدينا وطريقتنا، والمعنى الثاني: من لم يستغن به عن غيره بحيث يطلب الهدى من سواه فليس منا، ولا شك أن من طلب الهدى من غير القرآن أضله الله والعياذ بالله، فيدل الحديث على أنه ينبغي للإنسان أن يحسن صوته بالقرآن، وأن يستغنى به عن غيره.

  • الحث على تحسين الصوت بالقرآن، دون تمطيط أو تلحين يخرجه إلى حد الغناء المذموم, وأن يستغنى به عن غيره.
  • من لم يتغن بالقرآن فليس من أهل سنة النبي -صلى الله عليه وسلم- وهديه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید