حدیث

میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن سيرين، قال: كنت مع أنس بن مالك رضي الله عنه عند نفر من المجوس؛ فجيء بفَالُوذَجٍ على إناء من فضة، فلم يأكله، فقيل له: حوله، فحوله على إناء من خَلَنْجٍ وجيء به فأكله.

ترجمہ

انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوس کے چند افراد کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا کہ اسی دوران چاندی کے ایک برتن میں فالودہ لایا گیا، تو آپ نے اسے تناول نہیں فرمایا، ان سے کہا گیا: اسے دوسرے برتن میں ڈلوا لیں، چناں چہ انہوں نے اسے لکڑی کے برتن میں ڈلوایا اور پھر آپ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ مجوس کی ایک جماعت کے پاس تھے اسی دوران ان کے لئے چاندی کے ایک برتن میں ایک قسم کا حلوہ لایا گیا جس کا نام فالودہ ہے انہوں نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسے بدل کر لکڑی کے برتن میں اسے پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔

تشریح: العربية

كان أنس بن مالك رضي الله عنه عند قوم من المجوس فجيء له بنوع من الحلوى اسمه الفالوذج على إناء من فضة فلم يأكله، فحولوه له على إناء من خشب فأكله.

  • الطعام الحلال الموضوع في صحاف الذهب والفضة لا يحرم بذاته وإنما يحرم الأكل فيها، فإذا حول إلى آنية أخرى؛ فلا بأس به.
  • من دعي إلى طعام في آنية منهي عنها؛ فلا يجوز له الأكل حتى يوضع في إناء غيره.
  • المسلم إذا علم حكما شرعيا انقاد له وطبقه.
  • الابتعاد عن الترفه والتشبه بالكفار في المأكل والمشرب والملبس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید