حدیث

جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ وَالعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر اللہ کی قسم کھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ مومن قسم صرف اللہ کی کھاتا ہے۔ آپ بتا رہے ہیں کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، جیسے وہ جس نے لات و عزی، جو دور جاہلیت میں پوجے جانے والے دو بت ہیں، کی قسم کھائی، اس کے بعد اس کے اوپر لا الہ الا اللہ کہنا، شرک سے اپنی براءت کا اعلان کرنے کے لئے اور اس قسم کے کفارہ کے طور پر چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے بتایا کہ جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں (جوا نام ہے دو یا دو سے زیادہ لوگوں کا اس شرط کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونے کا کہ ان کے درمیان کوئی مال ہو اور مقابلہ جیتنے والا مال لے جائے گا۔ انسان اس میں یا تو جیتتا ہے یا پھر ہارتا ہے)، اس کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ جوا کی دعوت دینے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے، اس کا کفارہ ہو جائے۔

فوائد

  • قسم بس اللہ اور اس کے اسما و صفات کی کھانا جائز ہے۔
  • غیراللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔ قسم خواہ بتوں جیسے لات و عزی کی کھائی جائے، یا امانت کی کھائی جائے، یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی کھائی جائے یا کسی اور کی۔
  • خطابی کہتے ہیں: قسم بس عظیم معبود کی کھائی جانی چاہیے۔ اس لیے اگر کسی نے لات وغیرہ کی قسم کھا ئی، تو اس نے کفار کے جیسا کام کیا۔ اسى لئے اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ تدارک کے طور پر کلمۂ توحید پڑھ لے۔
  • غیراللہ کی قسم کھانے والے کو قسم کا کفارہ نہیں دینا ہے۔ اسے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ اسے توبہ کے علاوہ کوئی چيز نہیں مٹا سکتی۔
  • قمار کی ساری صورتیں اور شکلیں حرام ہیں۔ قمار وہی میسر (جوا) ہے، جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور شراب اور بتوں کے ساتھ یکجا بیان کیا ہے۔
  • گناہ ہو جانے کی صورت میں اس سے واپس لوٹنا (یعنى توبہ کرنا) واجب ہے۔
  • جو شخص گناہ میں پڑ جائے اسے چاہیے کہ اس کے بعد نیکی کرے؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔
تشریح: العربية

يُحَذِّرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن الحَلِف بغير الله؛ حيث المؤمن لا يحلف إلا بالله، ويخبر أنّ من حلف بغير الله؛ كمن حلف مثلًا: باللات والعُزى -وهما صنمان كانا يُعبدان في الجاهلية قبل الإسلام- فيجب عليه أن يقول مستدركًا على نفسه: لا إله إلا الله، تبرؤًا من الشرك، وكفارةً عن حلفه ذاك. ثم أخبر صلى الله عليه وسلم أنّ من قال لصاحبه: تعال نلعب القمار، -وهو أن يتغالب اثنان فأكثر على أن يكون بينهم مال يأخذه الغالب، ولا يخلو كل واحد منهما فيه من أن يغنم أو يغرم-؛ فيستحب أن يتصدق بشيء تكفيرًا عما دعا إليه.

  • الحلف لا يكون إلا بالله وأسمائه وصفاته.
  • الحلف بغير الله تعالى محرَّم، سواء الحلف بالأصنام كاللات والعزى، أو الحلف بالأمانة، أو الحلف بالنبي أو غير ذلك.
  • قال الخطابي: اليمين إنما تكون بالمعبود المعظّم، فإذا حلف باللات ونحوها فقد ضاهى الكفار، فأمر أن يتدارك بكلمة التوحيد.
  • ليس على من حلف بغير الله كفارة يمين، وإنما يلزمه الإنابة والاستغفار؛ لأنه أعظم من أن تكفِّرَه غير التوبة.
  • تحريم القمار بكل صوره وأشكاله، وهو الميسِر الذي حرَّمه الله تعالى وقرَنه بالخمر والأصنام.
  • وجوب الرجوع عن المعصية في حال اقترافها.
  • من وقع في سيئة عليه أن يتبعها حسنة؛ لأن الحسنات يذهبن السيئات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید