حدیث

تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عن العِرْباضِ بن ساريةَ رضي الله عنه قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فوَعَظَنا مَوعظةً بليغةً وَجِلتْ منها القلوبُ، وذَرَفتْ منها العيونُ، فقيل: يا رسول الله، وعظتَنَا موعظةَ مُودِّعٍ فاعهد إلينا بعهد. فقال: «عليكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإن عبدًا حبشيًّا، وسترون من بعدي اختلافًا شديدًا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عَضُّوا عليها بالنواجِذ، وإياكم والأمور المحدثات، فإن كل بدعة ضلالة».

ترجمہ

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ایسا متاثر کرنے والا وعظ فرمایا کہ ہمارے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ لہذا کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا وعظ فرمایا ہے، جو الوداعی وعظ معلوم ہوتا ہے۔ لہذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائ‏یں۔ چنانچہ فرمایا : "تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا۔ اسے اپنے داڑھوں سے پکڑے رہنا۔ اور دیکھو، دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں سے دور رہنا۔ کیوں کہ ہر بدعت (دین کے نام پر سامنے آنے والی نئی چیز) گمراہی ہے۔"

تشریح

ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وعظ فرمایا۔ وعظ اتنا متاثر کرنے والا تھا کہ اس سے لوگوں کے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک الوداع کہنے والے کی جانب سے پیش کیا جانے والا خطاب ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خطاب کرتے وقت اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ لہذا انھوں نے آپ سے کچھ وصیت کرنے کو کہا، تاکہ آپ کے بعد اسے مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ چنانچہ آپ نے کہا: میں تم کو اللہ عز وجل کا خوف رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے واجبات کو ادا کرنا اور محرمات سے اجتناب کرنا۔ اسی طرح میں تم کو حکمرانوں کا حکم سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں۔ خواہ تمھارا حکمراں کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ایک معمولی سے معمولی انسان بھی اگر تمھارا حکمراں بن جائے، تو تم اس سے بدک کر دور مت ہٹو۔ تم اس کی بات مانو، تاکہ فتنے سر نہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ تم میں سے جو لوگ زندہ رہيں گے، وہ بہت سارا اختلاف دیکھیں گے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے صحابہ کو اس اختلاف سے نکلنے کا راستہ بتایا۔ راستہ یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے بعد مسند خلافت سنبھالنے والے نیک ہدایت یاب خلفا؛ ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم کی سنت کو مضبوطی سے تھام کر رکھا جائے۔ آپ نے اسے داڑھوں سے پکڑنے کا حکم دیا۔ یعنی ہر حال میں سنت کو لازم پکڑا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ اس کے بعد آپ نے ان کو دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں یعنی بدعات و محدثات سے خبردار کیا۔ کیوں کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز گمراہی ہے۔

فوائد

  • سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور اس کا اتباع کرنے کی اہمیت۔
  • پند و موعظت اور دلوں کو نرم کرنے پر توجہ۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد مسند خلافت پر فائز ہونے والے چاروں صالح اور ہدایت یاب خلفا یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے اتباع کا حکم۔
  • دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے کی ممانعت اور اس بات کا اعلان کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے۔
  • مسلمانوں کی زمام حکومت سنبھالنے والے لوگوں کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دیں۔
  • ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا خوف رکھنے کی اہمیت۔
  • اس امت میں اختلافات سامنے آتے رہيں گے اور اس طرح کے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت کی جانب لوٹنا لازم ہوگا۔
تشریح: العربية

وَعَظَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أصحابَه مَوعظةً بَلِيْغَةً خافتْ منها القلوبُ ودَمَعتْ منها العيونُ، فقالوا: يا رسول الله كأنها مَوعظةُ مُودِّعٍ لِمَا رأوا مِن مبالغتِه صلى الله عليه وسلم في الموعظة، فطلبوا وصيةً ليتمسكوا بها مِن بعده، قال: أوصيكم بتقوى الله عز وجل، وذلك بفعل الواجبات وترك المحرمات، والسمع والطاعة، أي: للأمراء، وإنْ تَأَمَّر عليكم عَبْدٌ أو استولى عليكم، أي صار أدنى الخَلْقِ أميرًا عليكم فلا تَسْتَنْكِفُوا عن ذلك وأطيعوه، مخافةَ إثارةِ الفتن، فإنه مَن يعِش منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، ثم بَيَّنَ لهم المَخْرَجَ مِن هذا الاختلاف، وذلك بالتمسُّك بِسُنَّتِهِ وسُنّةِ الخلفاء الراشدين المهديين مِن بعده، أبي بكر الصديق، وعمر بن الخطاب، وعثمان بن عفان، وعلي بن أبي طالب رضي الله عنهم أجمعين، والعَضُّ عليها بالنواجذ أي –الأضراس الأخيرة-: يعني بذلك الجِدُّ في لزوم السنة والتمسك بها، وحَذَّرَهم من الأمور المُحدَثة المُبْتَدَعة في الدِّين، فإنِّ كلَّ بدعةٍ ضلالةٌ.

  • أهمية التَّمَسُّكِ بالسُّنّة واتباعها.
  • العناية بالمواعظ وترقيق القلوب.
  • الأمر باتباع الخُلَفاء الراشدين المهديين الأربعة مِن بعده، وهم أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم.
  • النهيُ عن الابتداع في الدِّين، وأنّ كل البدع ضلالة.
  • السمع والطاعة لمَن تولَّى أمر المؤمنين في غير معصية.
  • أهمية تقوى الله عز وجل في كل الأوقات والأحوال.
  • الاختلاف واقع في هذه الأمة، وعند حدوثِهِ يلزم الرجوعُ إلى سُنّة رسول الله صلى الله عليه وسلم والخلفاء الراشدين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید