ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمي رحمه الله قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ.
ترجمہ
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے ان صحابۂ کرام نے بیان کیا، جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے۔ وہ کہتے کہ اس طرح ہم نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
تشریح
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی دس آیتیں اخذ کرتے اور ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک ان دس آیتوں میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ چناں چہ انہوں نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
فوائد
- صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور قرآن سیکھنے کی تئیں ان کی حرص و رغبت۔
- قرآن سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، نہ یہ کہ صرف اس کی تلاوت کی جائے اور اسے یاد کیا جائے۔
- قول وعمل سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
تشریح: العربية
كان الصحابة رضي الله عنهم يَتَلَقَّون مِن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر آيات مِن القرآن، ولا ينتقلون إلى غيرها حتَّى يتعلَّموا ما في هذه العشر من العلم ويعملون به، فعلموا العلم والعمل معًا.
- فضل الصحابة رضي الله عنهم وحرصهم على تعلم القرآن.
- تعلم القرآن يكون بالعلم والعمل بما فيه، وليس بقراءته وحفظه فقط.
- العلم يكون قبل القول والعمل.