حدیث

یہودی وہ لوگ ہیں، جو اللہ کے غضب کے شکار ہوئے اور نصاری وہ لوگ ہيں، جو گمراہی میں پڑ گئے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي

عربی متن

عَنْ ‌عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْيَهُودُ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ، وَالنَّصَارَى ضُلَّالٌ».

ترجمہ

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "یہودی وہ لوگ ہیں، جو اللہ کے غضب کے شکار ہوئے اور نصاری وہ لوگ ہيں، جو گمراہی میں پڑ گئے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ یہودی ایک ایسی قوم ہے، جو اللہ کے غضب کی شکار ہوئی، کیوں کہ اس نے حق کو جاننے کے باجود اس پر عمل نہیں کیا۔ جب کہ نصاری ایک گمراہ قوم ہے، کیوں کہ ان کا عمل علم کی روشنی سے محروم تھا۔

فوائد

  • علم اور عمل دونوں ایک ساتھ جمع ہو جانا غضب کے شکار ہونے والے اور گمراہ لوگوں کے راستے سے نجات کا باعث ہے۔
  • اس حدیث میں یہود و نصاری کے راستے پر چلنے سے خبردار کیا گیا ہے اور سیدھے راستے یعنی اسلام پر گامزن رہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • ویسے تو یہود و نصاری دونوں گمراہ اور اللہ کے غضب کی شکار قومیں ہیں، لیکن یہودیوں کا سب سے خاص وصف اللہ کے غضب کا شکار ہونا اور عیسائیوں کا سب سے خاص وصف گمراہی ہے۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ اليهودَ قومٌ غَضِبَ اللهُ عليهم؛ لأنهم عرفوا الحقَّ ولم يعملوا به. والنصارى قومٌ ضلال؛ لأنهم عَمِلوا بغير علم.

  • الجَمْعُ بين العلم والعمل نجاةٌ من سبيل المغضوب عليهم والضالين.
  • التحذير من سبيل اليهود والنصارى، ولزوم الصراط المستقيم الذي هو الإسلام.
  • كل من اليهود والنصارى ضال مغضوب عليه، لكن أَخَصُّ أوصافِ اليهود الغضبُ، وأَخَصُّ أوصاف النصارى الضلال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید