حدیث

’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ ‌عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ، وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ، وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 7]. قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا رَأَيْتِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللهُ، فَاحْذَرُوهُمْ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" [آل عمران: 7]. حضرت عائشہ‬ رضی اللہ عنہا ب‬یان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو۔‘‘

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات، یعنی ملتی جلتی ہیں۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بتایا ہے کہ اسی نے اپنے نبی پر قرآن نازل فرمایا، جس میں کچھ واضح طور پر دلالت کرنے والی آیتیں ہیں، جن کے احکام معروف ومشہور ہیں اور ان میں کوئی التباس نہیں ہے۔ یہ آیتیں ہی قرآن کی اصل اور مرجع ہیں۔ اختلاف کے وقت انہی آیتوں کی طرف لوٹنا چاہیے۔ جب کہ قرآن کی کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں، جن میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں پر ان کے معانی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے یا وہ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں ان آیتوں کا دوسری آیتوں سے تعارض وتصادم ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان آیتوں کے تئیں لوگوں کے تعامل کی وضاحت فرمائی۔ چنانچہ جن لوگوں کے دل حق سے پھرے ہوئے ہیں، وہ محکم آیتوں کو چھوڑ دیتے اور (ایک سے زائد معانی پر محتمل) متشابہ آیتوں کو لےلیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد شبہات پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ ان متشابہ آیتوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں، ان پر ایمان لاتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں، اس لیے ان کے درمیان تعارض اور التباس ناممکن ہے۔ لیکن اس سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل سلیم کے حامل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اگر انہیں متشابہ آیتوں کی جستجو میں پڑے ہوئے لوگ نظر آئیں، تو جان لیں کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالی نے اس آيت میں لیا ہے : "جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے"، اس لیے ان سے دور رہیں اور ان کی باتوں پر کان نہ دھریں۔

فوائد

  • قرآن مجید کی محکم آیتیں وہ ہیں، جن کى دلالت واضح اور جن کے معانی ظاہر ہیں اور متشابہ آیتیں وہ ہیں، جو ایک سے زائد معانی کا احتمال رکھتی ہوں اور (ان کو سمجھنے کے لیے) غور وفکر اور فہم وبصیرت کی ضرورت ہو۔
  • گمراہ، بدعتی اور لوگوں کو گمراہی اور شک وشبہ میں مبتلا کرنے کی غرض سے شبہات پیدا کرنے والوں کی صحبت میں رہنے کی ممانعت۔
  • آیت کا اختتام اللہ کے فرمان "کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں" سے کر کے دراصل گمراہ لوگوں کی مذمت اور گہرے علم والے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ جس نے نصیحت حاصل نہیں کی اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا رہا، وہ عقل مندوں میں سے نہیں ہے۔
  • متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑنا دل کی گمراہی کا سبب ہے۔
  • جن متشابہ آیتوں کا معنی و مفہوم سمجھنے میں دشواری ہو، انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹانا واجب ہے۔
  • اللہ پاک نے قرآن کی بعض آیتوں کو محکم اور بعض کو متشابہ بنایا ہے، تاکہ لوگوں کی آزمائش ہوسکے اور اہل ایمان اور اہل ضلالت میں فرق ہو سکے۔
  • قرآن میں متشابہ آیتوں کے پیچھے یہ مصلحت کار فرما ہے کہ عام لوگوں کی مقابلہ میں علماء کی فضیلت آشکارا ہو سکے اور لوگوں کو اپنی عقل کی کوتاہی معلوم ہوسکے، تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور اپنی عاجزی کا اعتراف کریں۔
  • علم میں پختگی کی فضیلت اور اس پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت۔
  • { وما يعلم تأويله إلا الله والراسخون في العلم } اس آیت میں (اللہ) پر وقف کرنے سے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ جو (اللہ) پر وقف کے قائل ہیں، ان کے نزید تاویل سے مراد چیز کی حقیقت و کیفیت اور اس چیز کا علم ہے، جس کا حصول ناممکن ہے۔ جیسے روح اور قیامت جیسی چیزیں، جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ (بے جا تاویل سے) بچ جاتے ہیں اور (دوسروں کو بھی گمراہی سے) بچا لیتے ہیں۔ البتہ جو وصل کے قائل ہیں اور (اللہ) پر وقف نہیں کرتے، ان کے نزدیک تاویل سے مراد تفسیر اور وضاحت ہے۔ ان کے نزدیک معنی یہ ہے کہ اللہ اسے جانتا ہے اور علم میں پختگی رکھنے والے بھی اسے جانتے ہیں۔ چناں چہ وہ ان پر ایمان رکھتے اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں۔
تشریح: العربية

قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ}، وفيها أخبر الله سبحانه أنه هو الذي أنزل على نبيه القرآن، الذي منه آيات واضحة الدلالة، معلومة الأحكام لا لبس فيها، هي أصل الكتاب ومرجعه، وهي المرجع عند الاختلاف، ومنه آيات أُخر محتملة لأكثر من معنى، يلتبس معناها على بعض الناس، أو يظن أن بينها وبين الآية الأخرى تعارض، ثم بين الله تعامل الناس مع هذا الآيات، فالذين في قلوبهم مَيْلٌ عن الحق فيتركون المُحْكم، ويأخذون بالمتشابه المُحْتمل، يبتغون بذلك إثارة الشبهة وإضلال الناس، ويبتغون بذلك تأويلها على ما يوافق أهواءهم، وأما الثابتون في العلم فإنهم يعلمون هذا المتشابه، ويردُّونه للمحكم، ويؤمنون به وأنه من عند الله سبحانه وتعالى، ولا يمكن أن يلتبس أو يتعارض، ولكن ما يتذكر بذلك ولا يتعظ إلا أصحاب العقول السليمة. ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم لأم المؤمنين عائشة رضي الله عنها أنها إذا رأت الذين يتبعون المتشابه فإنهم هم الذين سمَّى الله في قوله: {فأما الذين في قلوبهم زيغ} فاحذروهم ولا تصغوا إليهم.

  • المحكم من آيات القرآن: ما اتضحت دلالته وظهر معناه، والمتشابه: ما احتمل أكثر من معنى واحتاج إلى نظر وفهم.
  • التحذير مِن مخالطة أهل الزيغ وأصحاب البدع ومَن يطرح المشكلات لإضلال الناس وتشكيكهم.
  • في ختم الآية بقوله تعالى: {وما يذكر إلا أولو الألباب} تعريض بالزائغين، ومدح للراسخين، يعني: مَن لم يتذكَّر ويتَّعظ، واتَّبع هواه ليس مِن أولي الألباب.
  • اتباع المتشابه سبب لزيغ القلب.
  • وجوب رد الآيات المتشابهة التي قد لا يُفهم معناها إلى الآيات المحكمة.
  • جعل الله سبحانه بعضَ القرآن محكمًا وبعضَه متشابهًا؛ ابتلاءً للناس ليتميز أهل الإيمان من أهل الضلال.
  • في وقوع المتشابه في القرآن: إظهار فضل العلماء على غيرهم، وإعلام للعقول بقصورها؛ لتستسلم لبارئها وتعترف بعجزها.
  • فضيلة الرسوخ في العلم وضرورة الثبات فيه.
  • للمفسرين في الوقوف على {الله} من قوله: { وما يعلم تأويله إلا الله والراسخون في العلم } قولان، فمن وقف على {الله}، فيكون المراد بالتأويل علم حقيقة الشيء وكنهه وما لا سبيل إلى إدراكه كأمر الروح والساعة مما استأثر الله بعلمه، والراسخون في العلم يؤمنون به ويكلون حقائقه إلى الله فيسلمون ويسلمون، ومن وصل ولم يقف على {الله} ، فيكون المراد بالتأويل التفسير والكشف والإيضاح، فيكون الله يعلمه والراسخون في العلم يعلمونه أيضا، فيؤمنون بها ويردونها للمحكم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید