حدیث

آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ، كَانُوا قَدْ قَتَلُوا وَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا وَأَكْثَرُوا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ، لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ}[الفرقان: 68]، وَنَزَلَت: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: 53].

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]

تشریح

کچھ مشرک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، جو قتل و زنا میں بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے اور آپ سے کہنے لگے: آپ ہمیں جس مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات کی دعوت دے رہے ہیں، وہ یقینًا بہترین چیزیں ہیں۔ لیکن یہ بتائیں کہ ہمارا جو حال ہے اور ہم جس طرح شرک اور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث ہيں، کیا آپ کے مذہب میں اس کا کوئی کفارہ ہے؟ چنانچہ یہ دونوں آیتیں اتریں اور اللہ تعالی نے بتایا کہ انسان چاہے جتنی تعداد میں جتنے بھی بڑے بڑے گناہ کر بیٹھے، سچے دل سے توبہ کرنے پر اللہ اس کی توبہ قبول ضرور کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو لوگ آگے بھی کفر اور سرکشی کے راستے پر چلتے رہتے اور اسلام قبول نہ کرتے۔

فوائد

  • اسلام کی فضیلت و عظمت اور اس بات کی وضاحت کہ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
  • اپنے بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت، مغفرت اور درگزر۔
  • شرک حرام ہے، کسی کا ناحق قتل حرام ہے، زنا حرام ہے اور ان گناہوں میں ملوث ہونے والوں کے لیے بڑی سخت وعید ہے۔
  • سچی توبہ، جو اخلاص اور عمل صالح سے جڑی ہوئی ہو، کفر سمیت تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
  • اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہونا حرام ہے۔
تشریح: العربية

جاء رجالٌ مِن المشركين للنبيِّ صلى الله عليه وسلم وكانوا قد أكثروا مِن القتل والزنا، فقالوا للنبي: إنّ ما تدعو إليه مِن الإسلام وتعاليمِه شيءٌ حسنٌ، ولكن ما حالُنا وما وَقَعنا فيه مِن الشرك والكبائر، هل له كفّارة؟ فنزلت الآيتان، حيث قَبِل الله من الناس التَّوبة مع كثرة ذنوبهم وعِظمِها، ولولا ذلك لاستمرُّوا على كفرهم وطغيانهم ولَمَا دخلوا في هذا الدِّين.

  • فضلُ الإسلام وعظمتُه وأنه يهدِمُ ما قَبله من الذنوب.
  • سعة رحمة الله بعباده ومغفرته وعفوه.
  • تحريم الشرك، وتحريم قتل النفس بغير حق، وتحريم الزنا، ووعيد مَن يَقترف هذه الذنوب.
  • التوبة الصادقة المقترنة بالإخلاص والعمل الصالح تكفّر جميع الكبائر بما فيها الكفر بالله تعالى.
  • تحريم القُنُوْطِ واليأسِ مِن رحمةِ الله سبحانه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید