حدیث

”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللهُ عَنْها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا».

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو کسی عمل کا حکم دیتے تو انہیں اسی کام کا حکم دیتے جو ان کے لیے آسان ہوتا، نہ کہ مشکل کام کا؛ اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے سے عاجز نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ خود بھی اسی آسانی پر عمل فرماتے جس کا آپ ﷺ انہیں حکم دیتے تھے۔ لیکن صحابہ نے آپ ﷺ سے مشقت والے کاموں کا مکلف بنانے کی درخواست کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کے برعکس انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں مبالغہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! ہمارا حال آپ کے جیسا نہیں ہے، بے شک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ غضبناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: بے شک تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہی ہوں۔ لہذا وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔

فوائد

  • ابن حجر نے فرمایا: آپ ﷺ نے انہیں اسی عمل کا حکم دیا جو ان کے لیے آسان ہو، تاکہ وہ اس پر مداومت برتیں، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی برتی جائے۔
  • نیک وصالح آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک ہونے پر بھروسہ کر کے عمل میں جد وجہد سے دست کش نہ ہو۔
  • کسی شخص کا حسبِ ضرورت اپنی فضیلت بیان کرنا جائز ہے، جب فخر اور تکبر کا خوف نہ ہو۔
  • عبادت میں اولیٰ میانہ روی اور ہمیشگی ہے، نہ کہ ایسی مبالغہ آمیزی جو ترک کا باعث بنے۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: بندہ جب عبادت اور اس کے ثمرات میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو یہ اسے اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے پر مزید آمادہ کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نعمت باقی رہتی ہے اور اس پر شکر کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • شرعی حکم کی مخالفت پر غضہ ہونے کی مشروعیت، اور فہمِ معنی کے اہل ذہین وفطین شخص کے فہم میں کوتاہی کرنے پر اس کی نکیر کرنا، تاکہ اسے بیدار مغزی پر ابھارا جائے۔
  • اپنی امت پر نبی ﷺ کی شفقت، دین کی آسانی اور شریعت کی رواداری اور وسعت۔
  • صحابہ کرام عبادت میں شدید رغبت رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
  • شارع کی مقرر کردہ عزیمت اور رخصت کی حد پر ٹھہرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ شریعت کے موافق آسان ترین بات پر عمل کرنا، اس مشکل ترین کام سے اولیٰ ہے جو اس کے مخالف ہو۔
تشریح: العربية

تُخبر أمُّ المؤمنين عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أمر الناس بعمل من الأعمال أمرهم بما يسهل عليهم دون ما يشق، خشية أن يعجزوا عن الدوام عليه، وعمل هو بنظير ما يأمرهم به من التخفيف، لكنهم طلبوا منه التكليف بما يشق، لاعتقادهم احتياجهم إلى المبالغة في العمل لرفع الدرجات دونه. فيقولون: إنا ليس حالنا كحالك يا رسول الله، فإن الله قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، فيغضب حتى يعرف الغضب في وجهه، ثم يقول: إن أتقاكم وأعلمكم بالله أنا، فافعلوا ما آمركم به.

  • قال ابن حجر: إنما أمرهم بما يسهل عليهم ليداوموا عليه كما قال في الحديث الآخر: "أحب العمل إلى الله أدومه".
  • الرجل الصالح ينبغي ألا يترك الاجتهاد في العمل اعتمادًا على صلاحه.
  • جواز تحدث المرء بما فيه من فضل بحسب الحاجة لذلك عند الأمن من المباهاة والتعاظم.
  • الأولى في العبادة القصد والملازمة، لا المبالغة المفضية إلى الترك.
  • قال ابن حجر: العبد إذا بلغ الغاية في العبادة وثمراتها كان ذلك أدعى له إلى المواظبة عليها، استبقاء للنعمة، واستزادة لها بالشكر عليها.
  • مشروعية الغضب عند مخالفة الأمر الشرعي، والإنكار على الحاذق المتأهل لفهم المعنى إذا قصر في الفهم، تحريضًا له على التيقظ.
  • رفق النبي صلى الله عليه وسلم بأمته، وأن الدين يسر، وأن الشريعة حنيفية سمحة.
  • شدة رغبة الصحابة في العبادة، وطلبهم الازدياد من الخير.
  • الوقوف عند ما حد الشارع من عزيمة ورخصة، واعتقاد أن الأخذ بالأرفق الموافق للشرع أولى من الأشق المخالف له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید