ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ».
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی ﷺ کے عہد میں ایک شخص تھے جن کا نام عبداللہ تھا اور ان کا لقب حمار (گدھا) تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو ہنسایا کرتا تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی وجہ سے کوڑے لگوائے تھے۔ ایک دن ان کو پھر اسی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت فرما، اسے شراب نوشی کی حالت میں کتنا زیادہ لایا جاتا ہے؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
تشریح
نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ نامی ایک شخص تھے، جن کا لقب حمار تھا۔ وہ اپنی بعض باتوں سے نبی ﷺ کو ہنسایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ چنانچہ ایک دن پھر ان کو لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو برا بھلا کہا، اور بولا: اللہ اس پر لعنت کرے، اسے کتنی بار شراب نوشی کی حالت میں لایا جاتا ہے!؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
فوائد
- گناہ کے ارتکاب اور گناہ کرنے والے کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے ثابت ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مذکورہ شخص، اس سے سرزد ہونے والے عمل کے باوجود، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
- کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اس پر اصرار کی حالت میں مر جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے، اور اہل اسلام میں سے کوئی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ میں نہیں رہے گا۔
- کسی متعین شراب نوش پر لعنت کرنا مکروہ ہے؛ اس احتمال کی وجہ سے کہ لعنت کے لاحق ہونے میں کوئی امر مانع ہو؛ اور اس لیے کہ کسی متعین شخص پر لعنت کرنا اور اس کے خلاف بد دعا کرنا اسے سرکشی پر ابھار سکتا ہے، یا توبہ کی قبولیت سے مایوس کر سکتا ہے۔
- اس وصف سے متصف غیر متعین شخص پر لعنت کرنے کا جواز۔
تشریح: العربية
كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم رجل اسمه عبد الله، ويلقب حمارًا، كان يضحك النبي صلى الله عليه وسلم في بعض كلامه، وكان صلى الله عليه وسلم قد جلده في شرب الخمر، فأتي به يوما قد شرب الخمر فأمر به فجلد. فسبه أحد الحاضرين، وقال: لعنه الله، ما أكثر ما يؤتى به قد شرب الخمر؟! فقال صلى الله عليه وسلم: لا تدعوا عليه بالطرد من رحمة الله، فوالله ما علمت إلا أنه يحب الله ورسوله.
- لا تنافي بين ارتكاب النهي وثبوت محبة الله ورسوله في قلب المرتكب له؛ لأنه صلى الله عليه وسلم أخبر أن المذكور يحب الله ورسوله مع ما صدر منه.
- مرتكب الكبيرة إذا مات وهو مصِرٌّ على شيء منها فهو تحت المشيئة، إن شاء الله غفر له وإن شاء عذبه، ولا يخلَّد في النار أحد من أهل الإسلام.
- كراهة لعن شارب الخمر المعين؛ لاحتمال قيام مانع من لحوق اللعن؛ ولأن لعن المعين والدعاء عليه قد يحمله على التمادي، أو يُقنِّطه من قبول التوبة.
- جواز لعن غير المعين المتصف بذلك.