حدیث

تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

نووی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔یہ حدیث ہمیں کتاب الحُجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

عربی متن

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ».

ترجمہ

ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔"

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہيں ہو سکتا، جب تک اس کی محبت اللہ کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے اوامر ونواہی کے تابع نہ ہو جائے اور وہ ایسی چیزوں سے محبت نہ کرنے لگے، جن کا آپ نے حکم دیا ہے اور ایسی چیزوں سے نفرت نہ رکھنے لگے، جن سے آپ نے روکا ہے۔

فوائد

  • یہ حدیث شریعت کی پیروی کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • عقل یا عادت کو اپنے اوپر حاوی ہونے دینے اور انھیں اللہ کی لائی ہوئی شریعت پر مقدم رکھنے سے بچنا چاہیے۔ اس حدیث کی رو سے ایسا کرنے والے کے اندر ایمان نہيں ہوتا۔
  • شریعت کو ہر چيز میں اور ہر جگہ فیصلہ کن ماننا ضروری ہے۔ کیوں کہ آپ کے الفاظ ہیں: "میں جس شریعت کو لیکر آیا"
  • ایمان نیکی کے کام سے بڑھتا اور گناہ کے کام سے گھٹتا ہے۔
تشریح: العربية

بين النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أن الإنسان لا يكونا مؤمنًا كامل الإيمان الواجب حتى تكون محبته تابعة لما جاء به الرسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من الأوامر والنواهي وغيرها، فيحب ما أمر به، ويكْرَهُ ما نَهَى عنه.

  • الحديث قاعدة في التسليم للشرع والانقياد له.
  • تحذير الإنسان من أن من يحكم العقل أو العادة ويقدمه على ما جاء به الرسول صلى الله عليه وسلم، ففاعل ذلك قد نُفي الإيمان عنه.
  • وجوب تحكيم الشريعة في كل شيء، لقوله: «لِمَا جِئتُ به».
  • أن الإيمان يزيد بالطاعة وينقص بالمعصية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید