حدیث

اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما ، قال: بينما رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في بعض أَسْفَارِه، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضَجِرَتْ فلَعَنَتْهَا، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «خُذُوا ما عليها ودَعُوهَا؛ فإنها مَلْعُونَةٌ»، قال عمران: فكَأَنِّي أراها الآن تمشي في الناس ما يَعْرِضُ لها أحد".

ترجمہ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی، تو (اچانک) وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھيجی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن کر فرمایا: ”اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ ملعونہ (لعنت زدہ) ہے“۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے۔

تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بيان کر تے ہيں کہ انصار کی ایک عورت اپنی اونٹنی پر سوار تھی تو وہ عورت اس اونٹنی کی وجہ سے تھک گئی اور اکتا گئی۔ چنانچہ اس عورت نے کہا کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے حکم ديا کہ اس اونٹنی پر جو کجاوہ اور سامان ہےاسے لے ليا جائے، پھر اسے چھوڑ ديا جائے، کیونکہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو ديکھا کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے، کيونکہ نبی ﷺ نے حکم دے ديا تھا کہ اسے چھوڑ ديا جائے۔

تشریح: العربية

عن عمران بن حصين رضي الله عنهما أن: امرأة من الأنصار كانت على بعير لها فتعبت منها وسأمت فقالت: لعنك الله، فسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فأمر أن يؤخذ ما عليها من الرحل والمتاع، ثم تصرف، فإنها قد لعنت. قال عمران رضي الله عنه : فلقد رأيتها أي الناقة تمشي في الناس لا يتعرض لها أحد؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أن تصرف.

  • الزجر عن اللعن حتى في حق الحيوانات.
  • الصبر على الحيوان والإحسان إليه.
  • فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- ذلك تعزيراً للمرأة التي لعنت هذه الدابة وهي لا تستحق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید